سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں جدید فلم سازی کے فروغ، فلمی شعبے میں سرمایہ کاری اور فنکاروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے سے متعلق مختلف منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے میں بننے والی پنجابی فلموں کو 35 فیصد جبکہ اردو فلموں کو 20 فیصد ریبیٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی فلم سازوں کی حوصلہ افزائی اور پاکستانی فلمی صنعت کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں پنجاب اور پاکستان کے پہلے رائلٹی قانون کی تیاری کی بھی منظوری دی گئی۔ اس قانون کا مسودہ پنجاب فلم اتھارٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت فلم اینڈ میوزک اسکول، فلم ٹریڈنگ ہاؤس، پوسٹ پروڈکشن کی سہولت، اسٹوڈیو کمپلیکس، جدید فلم اسٹوڈیوز اور پاکستان کا سب سے بڑا کنونشن سینٹر قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
مالی سال 2026 سے 2027 کے لیے فلم سٹی اتھارٹی کا 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کا بجٹ جائزے کے لیے فنانسنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ اتھارٹی کی 53 آسامیوں میں سے پہلے مرحلے میں 26 افراد بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ بھرتیوں اور برطرفیوں کے اختیارات بورڈ کے پاس ہوں گے۔
اجلاس میں پنجاب فلم فنڈ کمیٹی کی تشکیل، 6 مختلف کمیٹیوں کے قیام اور پرانے سینما گھروں کی بحالی سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔حکومت نے سینما گھروں میں سولر سسٹم لگانے اور عوام کو کم قیمت پر تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے منصوبوں کی بھی منظوری دی ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ جدید فلم سٹی کے قیام سے پنجاب میں فلم سازی کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور لاہور ایک بار پھر پاکستان کی فلمی صنعت میں نمایاں مقام حاصل کر سکے گا۔