لاطینی امریکہ کی سیاست میں ایک بار پھر وہ تاریخی طوفان برپا ہو چکا ہے جس نے دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں کو حیران کردیا۔
تمام تر مخالفانہ سازشوں اور دائیں بازو کی شدید مزاحمت کو خاک میں ملاتے ہوئے، بائیں بازو کے سینئر رہنما لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخابات کے دباؤ سے بھرپور دوسرے مرحلے میں ایک معرکہ آرا فتح حاصل کر لی ہے۔
سنسنی خیز مقابلہ اور حتمی نتائج
انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج کے مطابق لولا دا سلوا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا، جبکہ ان کے سخت حریف اور دائیں بازو کے رہنما بولسونارو 48.25 فیصد ووٹ حاصل کر کے دوڑ سے باہر ہو گئے۔
پولنگ کا ڈرامائی دن اور سفری رکاوٹیں
اتوار کا پورا دن انتہائی ڈرامائی اور سنسنی خیز حالات میں گزرا، ملک بھر میں خصوصاً شمال مشرقی خطے میں ووٹرز کو ٹرانسپورٹ اور سفری مشکلات کا سامنا تھا، جس پر الیکشن اتھارٹیز اور سپریم کورٹ کو فوری مداخلت کرنا پڑی . ان کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ارجنٹینا، چلی، کولمبیا اور پیرو سمیت خطے کے متعدد ممالک میں دائیں بازو کی سیاست کو تقویت ملی ہے۔
تمام تر تناؤ اور رکاوٹوں کے باوجود ووٹرز کا ایک طوفان پولنگ اسٹیشنز کی طرف امڈ آیا، جس نے بالاآخر نتائج کا رخ لولا دا سلوا کے حق میں موڑ دیا۔
یہ کامیابی ایک ایسی انتخابی مہم کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بنیادی توجہ مہنگائی، جرائم اور کرپشن جیسے مسائل پر مرکوز تھی ، امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، 1989 میں براہِ راست صدارتی انتخابات کی بحالی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے کے باوجود صدارتی انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوا ہے۔
لولا دا سلوا کا لازوال سیاسی سفر
لولا دا سلوا کا سیاسی سفر کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں، وہ اس سے قبل 2003 سے 2010 تک مسلسل دو بار برازیل کے صدر رہ چکے ہیں اور اس کے بعد 2023 میں اقتدار کے ایوانوں میں تاریخی واپسی کی۔
حالیہ الیکشن میں اس معرکہ آرا کامیابی کے بعد لولا دا سلوا نے برازیل کی تاریخ میں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے ، انہوں نے نہ صرف دائیں بازو کی سیاست کو شکست دی بلکہ دنیا کے سامنے اپنے ناقابلِ تسخیر سیاسی تسلط کا لوہا بھی منوا لیا ہے۔