زمین کے گرد موجود خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے ایک منفرد منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ایسا جدید روبوٹک خلائی جہاز تیار کیا جائے گا جو اپنے بڑے پنجوں کی مدد سے ناکارہ سیٹلائٹس کو پکڑ کر زمین کی فضا میں داخل کرے گا، جہاں شدید حرارت کے باعث وہ جل کر تباہ ہو جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق زمین کے مدار میں موجود ناکارہ سیٹلائٹس اور ان کے ٹکڑے خلائی مشنز کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ اگر خلائی کچرے کا کوئی ٹکڑا کسی فعال سیٹلائٹ یا خلائی جہاز سے ٹکرا جائے تو اسے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مواصلاتی نظام سمیت دیگر اہم خلائی خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
برطانوی منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے روبوٹک خلائی جہاز میں خصوصی بڑے پنجے نصب ہوں گے، جن کی مدد سے ناکارہ سیٹلائٹس کو مضبوطی سے پکڑا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں زمین کی فضا کی جانب منتقل کیا جائے گا، جہاں فضا میں داخل ہوتے وقت پیدا ہونے والی شدید حرارت انہیں جلانے میں مدد دے گی۔
اس منصوبے پر برطانیہ تقریباً 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد زمین کے مدار میں خلائی کچرے کی مقدار کم کرنا اور فعال سیٹلائٹس کو ممکنہ تصادم سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے۔
اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں ناکارہ سیٹلائٹس کو زمین کے مدار سے ہٹانے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی دستیاب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے نزدیک خلائی کچرے میں مسلسل اضافے کے باعث ایسے منصوبوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، کیونکہ مستقبل میں خلائی سرگرمیوں کے محفوظ تسلسل کے لیے زمین کے مدار کو صاف رکھنا ضروری ہوگا۔