جدید ٹیکنالوجی سے پرندے کا علاج، پلاسٹک کی چونچ نے مشکل آسان کردی

جدید ٹیکنالوجی سے پرندے کا علاج، پلاسٹک کی چونچ نے مشکل آسان کردی

سائنس اور جدید ٹیکنالوجی نے ایک زخمی پرندے کی زندگی آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم کے آرٹس چڑیا گھر میں ایک پرندے کو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کردہ مصنوعی چونچ کے 2 حصے لگا دیے گئے، جسے اپنی نوعیت کا منفرد طبی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

چڑیا گھر میں موجود سدرن ہارن بِل نامی پرندے کی اوپری اور نچلی چونچ ٹوٹ گئی تھی، جس کے باعث اسے خوراک کھانے اور اپنی صفائی کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ماہرین نے پرندے کی ضرورت کے مطابق پلاسٹک سے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے مصنوعی چونچ کے دونوں حصے تیار کیے۔ بعد ازاں سرجنز نے پیچوں کی مدد سے انہیں پرندے کی چونچ کے ساتھ جوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:بچہ پیدا ہوتے ہی ادھیڑ عمر کا لگنے لگا، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

چونچ ٹوٹنے سے پرندے کی زندگی کیسے متاثر ہوئی؟

آرٹس چڑیا گھر نے فیس بک پر جاری بیان میں وضاحت کی کہ پرندے کے لیے چونچ صرف خوراک کھانے کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کی روزمرہ زندگی کے کئی اہم کاموں میں مدد دیتی ہے۔

چونچ کے کچھ حصے ٹوٹ جانے کے باعث یہ پرندہ اپنی صفائی کرنے اور زمین سے خوراک اٹھانے میں دشواری محسوس کر رہا تھا۔ مصنوعی چونچ لگانے کا مقصد اس کی ان مشکلات کو کم کرنا اور زندگی کا معیار بہتر بنانا تھا۔

چڑیا گھر اور یونیورسٹی نے مل کر علاج کیا

اس منفرد علاج میں آرٹس چڑیا گھر نے نیدرلینڈز کی یوٹریخت یونیورسٹی کے شعبہ ویٹرنری میڈیسن کے ساتھ مل کر کام کیا۔

سن 1838 میں قائم ہونے والا آرٹس چڑیا گھر دنیا کے قدیم ترین چڑیا گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ جدید تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی جانوروں کے علاج اور ان کی زندگی بہتر بنانے میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ پیش رفت مستقبل میں ان جانوروں کے علاج کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے جنہیں چوٹ یا حادثے کے باعث جسم کے کسی اہم حصے سے محروم ہونا پڑتا ہے۔

editor

Related Articles