اسلام آباد میں 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی 5 روزہ اقوام متحدہ پاکستان کانفرنس میں خلائی ٹیکنالوجی اور ارلی وارننگ سسٹمز کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں اور آفات سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے شدید موسمیاتی اثرات، جیسے کہ تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی اور جان لیوا ہیٹ ویوز نے روایتی انتظامات کو ناکافی بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں موسمیاتی پیش گوئی کا نیا نظام تیار، قدرتی آفات سے پہلے خبردار کرنے کی تیاری
اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے اب موسم کی پیشگوئی، آفات سے بچاؤ کی تیاری اور موسمیاتی مانیٹرنگ کے لیے خلائی بنیادوں پر مبنی ٹیکنالوجیز کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
کانفرنس کے اہم اہداف اور عالمی اداروں کی شرکت
دارالحکومت اسلام آباد میں 27 اکتوبر سے شروع ہونے والی 5 روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد سپارکو کی زیر نگرانی کیا جا رہا ہے۔
اس تقریب میں لگ بھگ 200 تا 250 قومی اور بین الاقوامی ماہرین، پالیسی ساز، محققین اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ’سب کے لیے ابتدائی انتباہ‘ اقدام کو تقویت دینے کے لیے سیٹلائٹ مشاہدات، زمین کا مشاہدہ کرنے والے ڈیٹا اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کا احاطہ کرے گی۔
علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کا فروغ


