’گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد‘ میں ’الیکٹرک اسکوٹی‘ کی بیٹری پھٹ گئی، یونیورسٹی بس اور 7 اسکوٹیاں جل کر خاکستر

’گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد‘ میں ’الیکٹرک اسکوٹی‘ کی بیٹری پھٹ گئی، یونیورسٹی بس اور 7 اسکوٹیاں جل کر خاکستر

فیصل آباد کی ’گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی‘ میں چارجنگ کے دوران ’الیکٹرک اسکوٹی‘ کی بیٹری زور دار دھماکے سے پھٹنے کے باعث خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے ایک یونیورسٹی بس اور مزید 7 اسکوٹیوں کو جلا کر راکھ کر دیا، تاہم بروقت کارروائی سے جانی نقصان کی بچت ہو گئی۔

یہ تشویشناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا میں ایک طالبہ کی ’الیکٹرک اسکوٹی‘ چارجنگ پر لگی ہوئی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چارجنگ کے دوران بیٹری اچانک پھٹ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے شدت اختیار کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک گاڑی چلانے والوں کیلئے وارننگ، تحقیق میں اہم انکشاف سامنے آگیا

شعلوں نے تیزی سے پھیلتے ہوئے قریب ہی کھڑی ایک بڑی یونیورسٹی بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ اس نے پارکنگ میں موجود مزید 7 الیکٹرک اسکوٹیوں کو بھی مکمل طور پر جلا کر تباہ کر دیا۔

امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشن

واقعے کی اطلاع ملتے ہی کیمپس میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم یونیورسٹی کے سیکیورٹی اور اسٹیٹ عملے نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری ردعمل دیا۔ اس کے ساتھ ہی ’ریسکیو 1122‘ کی ٹیمیں بھی ہنگامی بنیادوں پر موقع پر پہنچ گئیں۔

فائر فائٹرز اور مقامی عملے کی مشترکہ اور تیز ترین کارروائی کے باعث آگ پر قابو پا لیا گیا، جس سے شعلوں کو یونیورسٹی کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روک دیا گیا۔

الیکٹرک گاڑیوں کا بڑھتا رجحان

حالیہ چند برسوں میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سفری اخراجات کو کم کرنے کے پیشِ نظر طلبا اور بالخصوص طالبات میں ’الیکٹرک اسکوٹیز‘ کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔

یہ گاڑیاں ماحول دوست اور کفایتی تو ہیں، لیکن اکثر اوقات سستی یا غیر معیاری بیٹریوں کا استعمال اور چارجنگ کے دوران بنیادی حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کرنا ایسے خطرناک حادثات کا سبب بنتا ہے۔

لتھیم آئن بیٹریاں اگر مقررہ حد سے زیادہ گرم ہو جائیں یا ان میں شارٹ سرکٹ ہو، تو وہ سیکنڈوں میں بارود کی طرح پھٹ سکتی ہیں۔

حفاظتی اقدامات کی ضرورت اور تجزیاتی پہلو

یہ واقعہ الیکٹرک گاڑیاں استعمال کرنے والے تمام افراد کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ وارننگ ہے۔ آگ لگنے کے بعد شعلے اس قدر تیزی سے پھیلتے ہیں کہ سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا۔

اگر خدانخواستہ اس وقت کوئی طالبہ، ڈرائیور یا عملے کا فرد گاڑیوں کے قریب موجود ہوتا، تو صورتحال انتہائی سنگین اور جان لیوا ہو سکتی تھی۔

مزید پڑھیں:الیکٹرک گاڑی لینے والوں کیلئے بڑی خوشخبری، ہزاروں قرضے منظور

تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر الیکٹرک سواریوں کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر ناکافی اور غیر محفوظ ہے۔ اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ یونیورسٹیوں میں مخصوص اور محفوظ چارجنگ ایریاز قائم کیے جائیں، جنہیں دیگر گاڑیوں اور آتش گیر مادوں سے مناسب فاصلے پر رکھا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ، الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹریوں کا باقاعدگی سے تکنیکی معائنہ کروائیں اور صرف مستند چارجنگ آلات ہی استعمال کریں تاکہ مستقبل میں ایسے تباہ کن حادثات سے بچا جا سکے۔

Related Articles