اے آئی منافع بڑھانے کے بجائے اضافی خرچ بن گئی؟ نئی رپورٹ میں اہم انکشاف

اے آئی منافع بڑھانے کے بجائے اضافی خرچ بن گئی؟ نئی رپورٹ میں اہم انکشاف

مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکا کی زیادہ تر بڑی کمپنیوں کو اب تک اس ٹیکنالوجی سے واضح مالی فائدہ حاصل نہیں ہوسکا۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر کام کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی، منافع اور ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

اپولو گلوبل مینجمنٹ کی رپورٹ میں ادارے کے چیف اکانومسٹ ٹورسٹن سلوک نے کہا ہے کہ اب تک ٹیکنالوجی کی صنعت سے باہر امریکی کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مالی فوائد واضح نہیں ہوسکے۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فائدہ، باقی کاروبار پیچھے

میڈیا رپورٹ میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کی 493 کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جس میں 7 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، الفابیٹ، ایمیزون، ایپل، میٹا، مائیکروسافٹ، این ویڈیا اور ٹیسلا کو شامل نہیں کیا گیا۔

ان سات کمپنیوں کو عام طور پر ’میگنیفیسنٹ سیون‘ کہا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں میں فی ملازم آمدنی اور منافع کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ باقی 493 کمپنیوں میں ان پیمانوں پر زیادہ تبدیلی سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ پر کال اٹھانے سے پہلے ملے گی اہم معلومات، نیا فیچر کیا کرے گا

تاہم رپورٹ کا یہ مطلب نہیں کہ اے آئی کسی بھی کاروبار کے لیے فائدہ مند نہیں۔ اس کے نتائج صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیر جائزہ کمپنیوں میں اس کے مجموعی مالی فوائد ابھی واضح طور پر سامنے نہیں آئے۔

اے آئی اب فائدے کے بجائے اضافی خرچ بن رہی ہے؟

رپورٹ کے مطابق بعض کمپنیاں مصنوعی ذہانت پر اپنے اخراجات کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں۔ ان کے لیے اے آئی منافع بڑھانے کے بجائے ایک اضافی کاروباری لاگت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

سلوک کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر بہت سی کمپنیوں کو جدید ترین اے آئی ماڈلز کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے وہ ان پر زیادہ رقم خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں کی مالی معاونت سے کام کرنے والے نئے کاروبار اے آئی سروسز پر اخراجات بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:2 نومبر تک انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ، وجہ کیا ہے

کیا اے آئی انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے؟

رپورٹ میں اس خیال پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ زیادہ سستی اور طاقتور اے آئی لازماً کمپنیوں کا منافع بڑھا دے گی۔

کاروباری کامیابی صرف معلومات پر تیزی سے کام کرنے یا کام مکمل کرنے تک محدود نہیں۔ اس کے لیے انسانی فیصلہ سازی، اعتماد، جواب دہی، ادارے کی ثقافت اور اخلاقی معاملات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

یہ عوامل کمپنی کی ساکھ، صارفین کے ساتھ تعلقات اور مالی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے اے آئی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہونے کے باوجود کمپنیوں کے لیے اسے زیادہ آمدنی اور منافع میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اصل سوال کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق اے آئی پر سرمایہ کاری جاری ہے، لیکن معیشت کے بڑے حصے میں اس کے مالی فوائد اب تک واضح نہیں ہوئے۔ فی الحال اس ٹیکنالوجی سے سب سے نمایاں مالی فائدہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں دیگر شعبوں کی کمپنیاں بھی اے آئی کی مدد سے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکیں گی، زیادہ آمدنی حاصل کرسکیں گی اور منافع میں اضافہ کرسکیں گی؟

editor

Related Articles