’حامد میر کی محب الوطنی کہاں گئی‘، برطانوی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ، راتوں رات نئی متوازی صحافتی تنظیم کا قیام، خفیہ مراسلے نے سارے راز فاش کردیے

’حامد میر کی محب الوطنی کہاں گئی‘، برطانوی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ، راتوں رات نئی متوازی صحافتی تنظیم کا قیام، خفیہ مراسلے نے سارے راز فاش کردیے

ملکی صحافتی اداروں کے قومی بیانیے کے ساتھ کھڑے ہونے کے بعد حامد میر، منزہ جہانگیر اور فرحت اللہ بابر کی جانب سے نئی متوازی تنظیم کے قیام اور کروڑوں روپے کی غیر ملکی فنڈنگ کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وائرل ایک ویڈیو کے مطابق ملک بھر میں پہلے سے موجود درجنوں قائم شدہ پریس کلبز اور صحافتی یونینز کی موجودگی کے باوجود راتوں رات ایک نئی متوازی تنظیم کے قیام نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

حامد میر، فرحت اللہ بابر اور منزہ جہانگیر کے بظاہر اس اقدام کو آزادی صحافت کا نام دیا گیا، لیکن پس منظر میں ہونے والی سرگرمیوں نے اس کے حقیقی مقاصد کو عیاں کر دیا ہے۔

ویڈیو کے مطابق روایتی صحافتی اداروں اور یونینز نے قومی بیانیے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوتے ہوئے کسی بھی قسم کی ریاست مخالف مہم چلانے سے صاف انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اس متبادل پلیٹ فارم کی ضرورت پیش آئی۔

خفیہ خط اور برطانوی ایجنسی کا کردار

گمنام ذرائع سے لیک ہونے والے ایک خفیہ خط نے اس پوری مشق کے پیچھے چھپی حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے لندن ہیڈ کوارٹر سے اسلام آباد میں مقیم جیکب کو بھیجے گئے اس مراسلے میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستانی صحافیوں کی اکثریت اور روایتی پریس کلبز ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے حامی ہیں۔

اسی صورت حال کے پیش نظر جیکب کو یہ ٹاسک سونپا گیا کہ پرانی تنظیموں کو بائی پاس کر کے حامد میر، منزہ جہانگیر اور فرحت اللہ بابر کے توسط سے ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ فریڈم آف ایکسپریشن’ کے نام سے ایک نیا پریشر گروپ میدان میں اتارا جائے۔

مالی مفادات اور کروڑوں روپے کی غیر ملکی فنڈنگ

وائرل ویڈیو کے مطابق اس پورے پروجیکٹ کا اصل محرک صحافتی حقوق کے تحفظ کے بجائے مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق آج ٹی وی سے دوری اور ‘وائس ڈاٹ پی کے’ کی ناکامی کے بعد بے روزگار بیٹھی منزہ جہانگیر کو حامد میر کے ساتھ مل کر ایک بار پھر سرگرم ہونے کا موقع مل گیا ہے۔

اس ٹرائیکے کو اسلام آباد میں اپنا نیٹ ورک چلانے کے لیے آف شور چینلز کے ذریعے فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔

وائرل ویڈیو کے مطابق یہ رقم 3 قسطوں میں دی جا رہی ہے جو کل ملا کر 7.62 ملین پاؤنڈز (تقریباً 2.75 ارب روپے) بنتی ہے۔

تنظیمی ڈھانچہ اور غیر ملکی آقا کا مبینہ گٹھ جوڑ

ویڈیو کے مطابق اس نئی تشکیل پانے والی یونین کے پس پردہ کارفرما کرداروں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سب سے اوپر غیر ملکی آقا بیٹھا ہے جو پاؤنڈز کی برسات کر رہا ہے، جبکہ نچلی سطح پر حامد میر، منزہ جہانگیر اور فرحت اللہ بابر بھاری معاوضوں کے عوض صحافت کے نام پر اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل میں مصروف ہیں۔

اس تمام صورتحال نے صحافتی برادری کے اندر ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح پیشہ ورانہ اصولوں کو پس پشت ڈال کر بیرونی فنڈز کے ذریعے مفادات کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

تنظیمی کشمکش اور اس کے دور رس اثرات

ریاستی اور قومی سلامتی کے نازک موڑ پر اس قسم کے متوازی پلیٹ فارمز کا قیام اور ان کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کے انکشافات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اندرونی سیاست اور میڈیا کو اثر انداز کرنے کے لیے بیرونی عناصر کس طرح فعال ہیں۔

جب روایتی ادارے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی دباؤ میں آنے سے انکار کرتے ہیں، تو بیرونی طاقتیں متبادل پریشر گروپس تخلیق کرنے کا راستہ اپناتی ہیں۔

اس طرح کے اقدامات نہ صرف ملکی صحافت کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ آزادی اظہار کے مقدس فریضے کو بھی متنازع بناتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے پروجیکٹس کا مقصد اصلاحات نہیں بلکہ مخصوص ایجنڈے کی تکمیل ہے۔

Related Articles