پشاور کے لوگوں کی قسمت بدلنے لگی، برسوں سے التوا کا شکار رنگ روڈ مسنگ منصوبے پر کام تیز کر دیا گیا ، 100 دن کا ہدف مقرر

پشاور کے لوگوں کی قسمت بدلنے لگی، برسوں سے التوا کا شکار رنگ روڈ مسنگ منصوبے پر کام تیز کر دیا گیا ، 100 دن کا ہدف مقرر

پشاور میں برسوں سے زیرِ التوا رنگ روڈ مسنگ لنک منصوبے پر کام تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ منصوبے کو آئندہ 100 دن کے اندر مکمل کرکے ٹریفک کے لیے کھولنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ورسک روڈ سے ناصر باغ تک تعمیر ہونے والا یہ اہم منصوبہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے، آمدورفت کو بہتر بنانے اور شہریوں کو روزمرہ کی مشکلات سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

منصوبے کی تکمیل سے پشاور کے مصروف علاقوں میں ٹریفک کی روانی بہتر ہونے اور شہر کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ آسان ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کی تکمیل سے پشاور کے ٹریفک مسائل میں تقریباً 50 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد اور موٹروے سے آنے والے مسافروں کو بھی شہر میں داخلے اور آگے سفر کرنے کے لیے نسبتاً آسان راستہ میسر آئے گا۔

رنگ روڈ مسنگ لنک منصوبہ ورسک روڈ سے شروع ہو کر ناصر باغ تک جائے گا، جبکہ راستے میں دو مقامات پر یونیورسٹیوں سے رابطہ بھی قائم ہوگا۔ منصوبے کے تحت تعمیر کیے جانے والے پل اور دیگر انفراسٹرکچر ٹریفک کو مختلف سطحوں پر تقسیم کرنے میں مدد دیں گے، جس سے مصروف شاہراہوں پر گاڑیوں کی روانی بہتر ہونے کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمان کے قانون اور اصولوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب، جے یو آئی کے اپنے مرکزی دفتر پر تجاوزات کی نشاندہی،کارروائی سے بچانے کیلئے طالب علموں کو ڈھال بنا لیا

منصوبے پر کام کی رفتار اور مقررہ مدت میں تکمیل کے ہدف کو شہریوں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ ورسک روڈ پر ٹریفک کے مسائل سے متاثر شہریوں کا کہنا ہے کہ اس شاہراہ پر طویل عرصے سے ٹریفک کا دباؤ روزمرہ آمدورفت میں مشکلات پیدا کر رہا تھا، تاہم مسنگ لنک اور پلوں کی تعمیر مکمل ہونے سے صورت حال بہتر ہو سکتی ہے۔

ایک شہری نے منصوبے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور امید ہے کہ یہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق منصوبے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، گاڑیوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کا موقع ملے گا اور حادثات کے خدشات میں بھی کمی آسکتی ہے۔

شہری کا کہنا تھا کہ ورسک روڈ پر ٹریفک کے مسائل نے لوگوں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا تھا، لیکن منصوبے کی تکمیل کے بعد آمدورفت زیادہ آسان اور ہموار ہو جائے گی۔ انہوں نے پشاور میں دیگر ترقیاتی منصوبوں پر جاری کام کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مقامات پر پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر سے ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

رنگ روڈ مسنگ لنک منصوبے کو چار پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس کی مجموعی لاگت نو ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ منصوبے کا پہلا پیکج مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی تین پیکجز پر کام جاری ہے۔ متعلقہ منصوبے کو 100 دن کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد اسے ٹریفک کے لیے کھولنے کا منصوبہ ہے۔

پشاور میں رنگ روڈ مسنگ لنک کے ساتھ دیگر اہم مقامات پر بھی ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ شہریوں کے مطابق کبوتر چوک اور رنگ روڈ سے منسلک فلائی اوورز جیسے منصوبوں کی تکمیل بھی شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

نئی حکومت کی جانب سے زیرِ التوا ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے اور مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا ہدف شہریوں کے لیے امید افزا پیش رفت ہے۔ تاہم منصوبے کے حقیقی فوائد کا انحصار بروقت تکمیل، معیاری تعمیر اور ٹریفک کے مؤثر انتظام پر ہوگا۔

رنگ روڈ مسنگ لنک کی تکمیل سے نہ صرف ورسک روڈ اور ناصر باغ کے درمیان رابطہ بہتر ہونے کی توقع ہے بلکہ پشاور میں داخل ہونے اور شہر سے گزرنے والی ٹریفک کے لیے بھی سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔ شہریوں کو امید ہے کہ برسوں سے زیرِ التوا یہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو کر شہر کے ٹریفک نظام میں بہتری اور آمدورفت میں آسانی کا ذریعہ بنے گا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles