خیبرپختونخوا کے شعبہ صحت میں من پسند تقرریوں اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے پر نگار جوہر کی سربراہی میں سخت اصلاحات اور جوابدہی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے صحت کے شعبے میں طویل عرصے سے چلی آ رہی انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں پر قابو پانے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر کی زیر قیادت ایک مؤثر اصلاحاتی عمل کا آغاز کیا گیا ہے۔
اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کو روکنا اور تمام پچھلے فیصلوں پر شفاف جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔
صوبائی حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے فنڈز کا مؤثر استعمال کیا جائے تاکہ ہسپتالوں کا نظام درست سمت میں گامزن ہو سکے۔
اینٹی کرپشن انکوائری، مالی نقصانات کی تفصیلات
اینٹی کرپشن کی جانب سے جاری کردہ اوپن انکوائری 29-2026 کے مطابق محکمہ صحت میں من پسند تقرریوں اور مالی بے ضابطگیوں کی وجہ سے اب تک قومی خزانے کو 3.29 کروڑ روپے کا براہ راست نقصان پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں دو روزہ عالمی کانفرنس کا آغاز، ماہرین کی جوہری ہتھیاروں، خطے کی سلامتی اور بڑھتے ہوئے عالمی خطرات پر گفتگو
انکوائری رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر اس نااہلی اور بے ضابطگیوں کے اس سلسلے کو روکا نہ گیا تو یہ مالی نقصان بڑھ کر 14.92 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ صوبائی معیشت اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا اور سنگین چیلنج ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے سنگین اعتراضات اور تقرریوں کے معاملات
سامنے آنے والی آڈٹ رپورٹ میں اعلیٰ عہدوں پر بھرتیوں، امیدواروں کی جانچ پڑتال کے معیار، تنخواہوں کے تعین اور اضافی مالی فوائد کی فراہمی پر سخت نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نورالایمان فاطمہ کے دورِ اقتدار میں بورڈ آف گورنرز کے اندر ڈائریکٹر فارمیسی سے لے کر سینیئر کنسلٹنٹس تک کے کلیدی عہدوں پر میرٹ کے برعکس من پسند تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ ان فیصلوں نے نہ صرف شفافیت کے اصولوں کو پامال کیا بلکہ محکمے کے اندر مالی بدعنوانیوں کے دروازے بھی کھول دیے۔
ماضی کے ادوار پر کڑی نظر
صحت کے شعبے میں خراب گورننس کی جڑیں تلاش کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹس میں نوشیروان برکی اور نورالایمان فاطمہ کے دورِ کار میں کی جانے والی تقرریوں کے تمام طریقۂ کار اور مالی بے ضابطگیوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔
ان دونوں شخصیات کے دور میں ہونے والے پالیسی فیصلوں پر اب باقاعدہ جوابدہی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کن مقاصد کے لیے کیا گیا۔
حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ قانون کی بالادستی اور احتساب کے بغیر نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔
انتظامی شفافیت اور گورننس کا چیلنج


