صحت کارڈ میں اربوں کی لوٹ مار! ادویات کی خریداری میں سنگین دھاندلی اور من پسند شخصیات کو فائدہ، سہیل آفریدی حکومت بے نقاب

صحت کارڈ میں اربوں کی لوٹ مار! ادویات کی خریداری میں سنگین دھاندلی اور من پسند شخصیات کو فائدہ، سہیل آفریدی حکومت بے نقاب

پشاور: (زاہد میروخیل)  خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری طبی سامان کی خریداری کے موجودہ طریقہ کار پر مالیاتی کارکردگی، قیمتوں میں فرق اور معیار کی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

پروگرام کے خریداری نظام سے متعلق ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے منسلک ہسپتال بڑی مقدار میں استعمال ہونے والی ادویات اور طبی سامان کی خریداری اپنے طور پر کرتے ہیں جس کے باعث سرکاری سطح پر قائم مرکزی خریداری نظام سے حاصل ہونے والی ممکنہ بچت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت ادویات، طبی استعمال کی اشیا اور طبی آلات کی خریداری کو خیبر پختونخوا حکومت کے مرکزی خریداری نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ کم قیمت پر معیاری سامان کی فراہمی، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور خریداری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ پلس پروگرام کے مجموعی صحت اخراجات کا تقریبا 40 سے 45 فیصد حصہ ادویات، طبی استعمال کی اشیا اور آلات پر خرچ ہوتا ہے اس مد میں بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود مختلف ہسپتالوں کی جانب سے الگ الگ خریداری کا طریقہ اختیار کیے جانے کے باعث قیمتوں، معیار اور دستیابی میں یکسانیت برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے منسلک ہسپتال عموماً قریبی میڈیکل اسٹورز، فارمیسیوں اور مقامی سپلائرز سے ادویات اور طبی سامان حاصل کرتے ہیں۔ سپلائرز کے انتخاب میں زیادہ تر رعایت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق یہ رعایت اکثر مارکیٹ میں درج قیمت کے مقابلے میں 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی اس کے برعکس خیبر پختونخوا حکومت کا مرکزی خریداری نظام ادویات، طبی آلات اور دیگر طبی سامان براہ راست تیار کنندگان اور درآمد کنندگان سے بڑی مقدار میں خریدنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت بعض اشیا پر درج شدہ مارکیٹ قیمت کے مقابلے میں 70 فیصد تک رعایت حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ خریداری کے عمل میں معیار کی جانچ اور متعلقہ قومی و بین الاقوامی معیارات کی پابندی کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر صحت کارڈ پلس پروگرام کی خریداری کو پہلے سے موجود سرکاری نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے تو ادویات اور طبی سامان کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے ، اس طرح بچنے والی رقم کو مزید مریضوں کو سہولت فراہم کرنے، نئی طبی خدمات متعارف کرانے اور ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کی انتظامی یونٹ، محکمہ صحت خیبر پختونخوا اور انشورنس کمپنی کے درمیان باضابطہ معاہدے کیے جائیں تاکہ پروگرام سے منسلک ہسپتالوں کے لیے مرکزی خریداری پالیسی پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے،  اس مقصد کے لیے ایسا خودکار نظام متعارف کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے جس کے ذریعے ہسپتال اپنی ضروریات کے مطابق ادویات اور طبی سامان کے آرڈر دے سکیں اور ان کی فراہمی کو مربوط انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق تمام ہسپتالوں کے لیے یکساں خریداری پالیسی نافذ ہونے سے مختلف اداروں میں قیمتوں اور رعایتی شرحوں کے فرق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اس کے علاوہ خریداری کے معیار، سپلائرز کے انتخاب اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے یکساں اصول متعین کیے جا سکیں گے۔

رپورٹ میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت ہسپتالوں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں میں بھی تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے ،  اس کے مطابق ہسپتالوں کے لیے ادویات اور طبی استعمال کی اشیا کی خریداری میں کم لاگت اور معیار کی ضمانت دینے والے ذرائع سے استفادہ کرنے کی شرائط شامل کی جانی چاہئیں،  اسی طرح انشورنس کمپنی کے ساتھ معاہدے پر نظرثانی کرکے خریداری کی لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے واضح شرائط متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ پروگرام کے فنڈز کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے اور غیر ضروری اخراجات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : بدلتا سنورتا خیبر پختونخوا ! گورنر راج کے بعد اضلاع میں صحت کا نظام بدلنے لگا، لکی مروت میں عملی اقدامات کا آغاز

رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ہسپتالوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے واضح پیمانے مقرر کیے جائیں ،  ان پیمانوں میں ادویات کی قیمتیں، خریداری کے ذرائع، معیار کی پابندی اور مالی بچت کے اہداف کو شامل کیا جا سکتا ہے ،  اس سے ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جواب دہی بہتر بنانے اور خریداری کے عمل میں کارکردگی کو جانچنے میں مدد ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

رپورٹ میں خریداری کے تمام مراحل کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل آڈٹ نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے،  مجوزہ نظام کے ذریعے خریداری کے لین دین، سپلائرز کے انتخاب اور قیمتوں کا ریکارڈ محفوظ کیا جا سکے گا، جبکہ اس بات کا جائزہ لینا بھی ممکن ہوگا کہ ہسپتالوں نے دستیاب ذرائع میں سے کم لاگت اور معیاری سامان فراہم کرنے والے سپلائرز کا انتخاب کیا یا نہیں اس کے ساتھ تیسرے فریق کے ذریعے آزادانہ آڈٹ کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ خریداری کے عمل میں شفافیت برقرار رہے اور کسی ممکنہ بے ضابطگی یا غیر ضروری اخراجات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

رپورٹ میں خریداری کے قواعد اور منظوری کے مراحل کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے ، اس کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ مرکزی خریداری کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ہسپتالوں کو غیر ضروری انتظامی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ضروری ادویات و طبی سامان بروقت دستیاب رہیں۔

 رپورٹ میں مرکزی خریداری نظام کے مؤثر استعمال سے خریداری کے اخراجات میں 50 فیصد تک کمی کے امکان کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے تاہم یہ مجوزہ اصلاحات کے نتیجے میں متوقع بچت ہے، رپورٹ میں اسے پہلے سے حاصل شدہ مالی بچت کے طور پر بیان نہیں کیا گیا ۔

رپورٹ کے مطابق مرکزی خریداری نظام سے منسلک ہونے کی صورت میں معیاری اور تصدیق شدہ ادویات کی فراہمی بہتر بنانے، غیر معیاری مصنوعات سے متعلق خطرات کم کرنے اور سرکاری وسائل کے بہتر استعمال میں مدد مل سکتی ہے،  اس کے نتیجے میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت زیادہ مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں رپورٹ میں حکومت خیبر پختونخوا کو سفارش کی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے لیے واضح پالیسی ہدایات جاری کی جائیں۔

 اس کے تحت تمام منسلک ہسپتالوں کے لیے یکساں اصول مقرر کیے جائیں اور خریداری کے عمل میں قیمت، معیار اور شفافیت کو بنیادی اہمیت دی جائےرپورٹ میں متعلقہ فریقین کے درمیان رابطے اور مشاورت کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ محکمہ صحت، پروگرام کی انتظامیہ، انشورنس کمپنی اور ہسپتالوں کے درمیان ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے اور مجوزہ اصلاحات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو.

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس پروگرام کے موجودہ خریداری نظام میں اصلاحات مالی استحکام اور طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں مرکزی خریداری نظام کے ساتھ انضمام، یکساں قواعد، ڈیجیٹل نگرانی اور آزادانہ آڈٹ کے ذریعے سرکاری وسائل کے بہتر استعمال اور مریضوں کو زیادہ مؤثر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

editor

Related Articles