لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی عہدے سے مستعفی، استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی عہدے سے مستعفی، استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی عہدے سے مستعفی، استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال کر دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے حالیہ سرجری کے بعد صحت کی خراب صورتحال اور ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

نجی ٹی وی رپورٹر وقار ستی کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کے پیچھے اہم مقدمات نہ ملنے، مسلسل نظرانداز کیے جانے کے احساس اور راولپنڈی بینچ میں تعیناتی جیسے عوامل کارفرما تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پارلیمنٹ نے اربوں روپے کے کرپشن کیسز ختم کردیے، جسٹس محسن اختر کیانی

لاہور ہائیکورٹ میں 29 اپریل 2026 کو رپورٹ کرنے والے محسن اختر کیانی کو مبینہ طور پر خاندانی نوعیت کے مقدمات ہی مل رہے تھے۔جس کے باعث وہ دالبرداشتہ تھے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنا باضابطہ استعفیٰ صدرِ مملکت کو ارسال کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کی ایک بڑی سرجری ہوئی تھی، جس کے بعد صحت سے متعلق خدشات اور شدید طبی پیچیدگیوں کے باعث ان کے لیے دفتری فرائض کی انجام دہی جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔

انہوں نے صحت کی اس صورتحال کو اور ذاتی وجوہات کو ہی اس فیصلے کی بنیادی اور اہم ترین وجہ قرار دیا ہے۔ تاہم نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وہ مسلسل نظر انداز کیے جانے کے احساس اور راولپنڈی بینچ میں تعیناتی سے بھی دلبرداشتہ تھے۔

عدالتی خدمات اور 23 ہزار سے زیادہ مقدمات کا فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے کے متن میں اپنی طویل اور گراں قدر عدالتی خدمات کا ذکر بھی کیا ہے۔ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج اپنے فرائض منصبی سرانجام دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، جسٹس محسن کیانی کا تبادلہ لاہور ہائیکورٹ کرنے کی منظوری

اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہوں نے مختلف نوعیت کے پیچیدہ، آئینی اور عام شہریوں سے متعلق 23 ہزار سے زیادہ مقدمات کے فیصلہ کن اور اہم فیصلے صادر کیے، جن میں سے کئی فیصلے عدالتی تاریخ کے اہم اور تاریخی نظائر کی حیثیت رکھتے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے قیام کے دوران کئی تحریری فیصلے جاری کیے، جس کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

Related Articles