13 اپریل 2029 کو اپوفِس نامی ایک بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا۔ اس فلکیاتی واقعے کی خاص بات یہ ہے کہ سیارچہ زمین سے اتنے کم فاصلے پر ہوگا کہ مشرقی نصف کرے کے کئی علاقوں میں اسے بغیر دوربین کے بھی دیکھا جاسکے گا، بشرطیکہ موسم اور مقامی حالات سازگار ہوں۔
اس واقعے کو فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ایک غیر معمولی موقع قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اپوفِس کا زمین کے قریب سے گزرنا سائنس دانوں کو سیارچوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
ناسا کے مطابق، اپوفِس زمین کی سطح سے تقریباً 32 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا، جو بہت سے جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس کے مدار سے بھی قریب ہے۔ اس کا قطر تقریباً 340 میٹر ہے اور یہ زمین سے چاند کے فاصلے کے تقریباً دسواں حصے جتنے فاصلے پر ہوگا۔
سائنس دانوں کے مطابق، اس جسامت کا کوئی سیارچہ اتنے قریب سے گزرنے کا واقعہ اوسطاً ہزاروں سال میں ایک بار پیش آسکتا ہے۔ تاہم، زمین سے ٹکرانے کا کوئی خطرہ نہیں، اور موجودہ سائنسی حسابات کے مطابق اپوفِس اگلے کم از کم 100 سال تک زمین سے نہیں ٹکرائے گا۔
یہ واقعہ سائنس دانوں کے لیے بھی اہم ہوگا، کیونکہ زمین کی کششِ ثقل اپوفِس کی گردش اور مدار پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس کے قریب سے گزرنے کا مشاہدہ فلکیات دانوں کو اس کی ساخت اور خصوصیات سمجھنے میں مدد دے گا۔