طویل لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شمسی توانائی کی نئی منڈیاں اور روزگار پیدا کردیے، مگر ابتدائی اخراجات کم آمدن گھرانوں کی رسائی میں رکاوٹ ہیں۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں شمسی توانائی کا بڑھتا استعمال اب گھروں کی بجلی کی ضروریات تک محدود نہیں رہا۔
دکانوں، چھوٹی صنعتوں، شادی ہالوں اور زرعی آب پاشی میں اس کی جگہ بڑھ رہی ہے، جبکہ آلات کی فروخت، تنصیب اور دیکھ بھال سے مقامی معیشت میں نئے کاروبار ابھر رہے ہیں۔
اس تبدیلی کی ایک نمایاں جھلک مئی 2026 میں سامنے آئی، جب سوشل میڈیا پر شہر کی ڈرون ویڈیو وائرل ہوئی۔ برطانوی دور کے اس مرکزی شہر پر 4 بازار آکر ملتے ہیں۔
INFRASTRUCTURE: DERA ISMAIL KHAN’S SOLAR REVOLUTION https://t.co/MyJLIQQE62
— Muhammad Arif (@HarfeArif) October 25, 2026
ویڈیو ابتدا میں مصروف بازار دکھاتی ہے۔ پھر کیمرا بلند ہوتا ہے تو گنجان عمارتوں کی چھتوں پر دور تک سیاہ اور نیلے سولر پینل نظر آتے ہیں۔ پانی کی ٹینکیوں اور کپڑے سکھانے کی رسیوں سے پہچانی جانے والی چھتیں اب بجلی پیدا کرنے والے سولر نظر آتے ہیں۔
فراہم کردہ رپورٹ میں 2023 کی مردم شماری کے حوالے سے شہر کی آبادی تقریباً 210,000 بتائی گئی ہے، جبکہ اس کا شہری رقبہ لگ بھگ 40 مربع کلومیٹر ہے۔ پشاور سے تقریباً 300 کلومیٹر دور واقع، بدامنی سے متاثرہ اس گرد آلود شہر میں شمسی توانائی کی طرف منتقلی روزمرہ زندگی کے ساتھ کاروبار کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔
شمسی آلات کی 3 منڈیاں، ایک سڑک پر 70 تک دکانیں
گزشتہ چند برس میں خوشحال مارکیٹ، بنوں اڈہ اور ٹانک روڈ پر شمسی آلات کی 3 مخصوص منڈیاں قائم ہوئی ہیں۔ صرف سرکلر روڈ پر اس کاروبار سے وابستہ دکانوں کی تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بازار مقامی خریداروں کے علاوہ ٹانک اور بالائی و زیریں جنوبی وزیرستان کے لیے بھی شمسی آلات کی فراہمی کا اہم مرکز بن گئے ہیں۔
مقامی سولر آلات کے تاجر محمد سعید کے اندازے کے مطابق شہر کے بیشتر گھرانے شمسی توانائی اختیار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے پہلے نظام نصب کرائے تھے، وہ اب لیتھیم بیٹریوں کی قیمتیں کم ہونے پر اپنے نظام بہتر بنارہے ہیں۔
تاہم گھریلو استعمال کا یہ تناسب ان کا کاروباری مشاہدہ ہے، رپورٹ میں اس کی تصدیق کے لیے کوئی جامع سروے پیش نہیں کیا گیا۔
پھیلتی منڈی نے پینل لگانے، بجلی کی وائرنگ، بیٹریوں کی فراہمی و دیکھ بھال اور ٹیوب ویلوں سے متعلق کام بڑھائے ہیں۔ سامان کی ترسیل، رسد اور سولر پینل صاف کرنے سے بھی لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔
دوسری طرف روایتی برقی آلات کی مرمت کرنے والوں کو اپنا کام بدلنا پڑ رہا ہے۔ صارفین کے گرڈ بجلی سے شمسی توانائی کی طرف منتقل ہونے کے باعث روایتی آلات کی مرمت کی ضرورت کم ہوئی ہے۔اب مخصوص وائرنگ کے ساتھ سولر نظام اور شمسی توانائی پر چلنے والے ٹیوب ویلوں کا کام بھی کرتے ہیں۔
16 سے 18 گھنٹے کی بندش، گرمی میں متبادل کی تلاش
محمد سعید اور دوسرے تاجروں کے مطابق سال بھر جاری رہنے والی طویل لوڈشیڈنگ شمسی توانائی کی طرف منتقلی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی، پیسکو کے اعدادوشمار کے مطابق شہر کے 83 فیڈرز میں سے 43 پر لائن لاسز کم از کم 80 فیصد ہیں۔ کمپنی علاقے میں بڑے پیمانے پر بجلی چوری کو بھی مسئلے کی ایک وجہ قرار دیتی ہے۔
پیسکو کے ترجمان نے ’ای او ایس‘ کو بتایا کہ ایسے علاقوں میں روزانہ 16 سے 18 گھنٹے تک بجلی بند رہ سکتی ہے۔گرمیوں میں دن کا درجہ حرارت اکثر 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے موسم میں بجلی کی طویل بندش گھروں اور کاروباروں کے لیے متبادل انتظام کی ضرورت مزید بڑھا دیتی ہے۔
ملک گیر تبدیلی کا مقامی عکس
ڈیرہ اسماعیل خان کی صورت حال پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال کا حصہ ہے۔ گزشتہ 4 برس میں بجلی کے نرخ بڑھنے اور چین میں تیار ہونے والے سولر پینل سستے ہونے سے گھریلو اور کاروباری صارفین کے لیے شمسی نظام کی کشش بڑھی ہے۔
برطانیہ میں قائم توانائی کے تحقیقی ادارے ایمبر کی پاکستان کی توانائی معیشت میں شمسی منتقلی سے متعلق رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2023 میں ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں غیرمرکزی شمسی پیداوار کا حصہ 10 فیصد تھا، جو مالی سال 2025 میں 28 فیصد ہوگیا۔
رپورٹ میں 2 برس کے دوران مجموعی بجلی کی پیداوار میں 21 فیصد، یعنی 33 ٹیراواٹ گھنٹے اضافے کا ذکر ہے۔ یہ اعداد مجموعی پیداوار سے متعلق ہیں، انہیں صرف شمسی پیداوار میں 21 ٹیراواٹ گھنٹے اضافہ قرار دینا درست نہیں۔
پینل سستے ہوئے، پھر تنصیب کی لاگت بڑھنے لگی
مقامی سولر تاجر علی جان کے مطابق جو پینل کچھ عرصہ پہلے 75,000 روپے میں فروخت ہوتا تھا، عالمی منڈی میں زیادہ رسد اور قیمتوں میں کمی کے بعد اس کی قیمت تقریباً 16,000 روپے رہ گئی۔ ان کے بقول فی واٹ قیمت بھی 128 روپے سے کم ہوکر تقریباً 28 روپے تک آگئی تھی۔
585 واٹ کے 8 پینلوں کی مجموعی نامیاتی صلاحیت 4.68 کلوواٹ بنتی ہے۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اس حجم کا نظام ایئرکنڈیشنر، ریفریجریٹر، روشنیاں اور پنکھے چلانے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے، جبکہ شمسی پیداوار کم ہونے پر بیٹری بجلی فراہم کرتی ہے۔
تاہم بیک وقت چلنے والے آلات اور بجلی کی دستیابی کا دورانیہ انورٹر، بیٹری کی گنجائش، دھوپ اور استعمال کے بوجھ پر منحصر ہوتا ہے۔ پینلوں کی درج شدہ صلاحیت ہر وقت اتنی ہی بجلی ملنے کی ضمانت نہیں۔
8 پینلوں والے نظام کی لاگت ایک مرحلے پر تقریباً 220,000 روپے تک آگئی تھی۔ اندازاً بجلی کے بلوں میں بچت سے یہ سرمایہ 1 سے 2 برس میں واپس آسکتا تھا۔ عملی مدت ہر صارف کی کھپت، نظام کی تفصیل اور بچت کے مطابق مختلف ہوگی۔
محمد نوید کے مطابق گزشتہ برس سولر درآمدات پر جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے بعد قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔
ان کے بقول ڈیرہ اسماعیل خان میں پینل اب 32 روپے فی واٹ تک فروخت ہورہے ہیں اور 8 پینلوں کی تنصیب کی لاگت تقریباً 280,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ان قیمتوں کا تقابل کرتے وقت بیٹری، انورٹر اور دوسرے شامل آلات کی تفصیل اہم ہے، کیونکہ فراہم کردہ تخمینوں میں ہر نظام کے اجزا الگ الگ واضح نہیں کیے گئے۔
گھروں، کلینک اور کاروباروں کو بلوں میں ریلیف
مہنگی گرڈ بجلی اور بڑھتے ایندھن اخراجات کے باعث چھوٹی صنعتیں اور تجارتی ادارے بھی شمسی توانائی اختیار کررہے ہیں۔
ایک کاروباری شخص کے تخمینے کے مطابق پتھر توڑنے کا کارخانہ ڈیزل جنریٹر پر چلانے کا ماہانہ خرچ 1,800,000 روپے تک ہوسکتا ہے۔ اسی کاروباری شخص کے مطابق اسے شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 10,500,000 روپے درکار ہوں گے اور سرمایہ 3 برس سے کچھ کم مدت میں واپس آسکتا ہے۔
ان دونوں تخمینوں کی بنیاد واضح نہیں کی گئی۔ صرف بیان کردہ ماہانہ ڈیزل خرچ اور ابتدائی سرمایہ کاری سے سرمایہ واپسی کی یہی مدت اخذ نہیں ہوتی، درست حساب کے لیے متبادل بجلی، دیکھ بھال، عملی بچت اور کارخانے کے اوقاتِ کار کی تفصیل بھی ضروری ہے۔
شہر کی تجارتی منڈیوں اور شادی ہالوں میں بھی سولر نظام نصب کیے جارہے ہیں۔ بعض کاروبار گرڈ بجلی پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ کچھ اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
گومل، خیبر، انارکلی، میاں کمرشل اور گلف پلازہ جیسی نئی تجارتی مارکیٹوں میں بند جگہوں کو روشن اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے قابلِ اعتماد بجلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ بجلی اور ایندھن مہنگا ہونے سے جنریٹر چلانے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس نے کاروباروں کو شمسی نظام میں سرمایہ لگانے پر مائل کیا ہے۔
کھیتوں تک پھیلتی شمسی توانائی، کراچی سے جڑی قیمتیں
کاشت کار بھی ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے بجائے شمسی توانائی کی طرف آرہے ہیں۔ بڑھتے ایندھن اخراجات اس تبدیلی کو تیز کررہے ہیں۔
10 ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے شمسی آب پاشی نظام کی قیمت تقریباً 9,000,000 روپے ہے۔ رپورٹ میں اس نظام کی فنی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس رقم کو ہر 10 ایکڑ کے لیے یکساں لاگت نہیں سمجھا جاسکتا۔
مقامی تاجروں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں شمسی آلات کی قیمتیں کراچی کی منڈی سے قریب سے جڑی ہیں۔ کراچی میں فی واٹ قیمت 1 روپیہ بڑھے تو اس کا اثر جلد مقامی نرخوں پر بھی آجاتا ہے۔
ایران سے متعلق تنازع شروع ہونے کے بعد کراچی سے ڈیرہ اسماعیل خان تک سامان لانے کا کرایہ بھی، ان کے مطابق فی کنٹینر تقریباً 270,000 روپے سے بڑھ کر 350,000 روپے ہوگیا ہے۔
جن کے پاس ابتدائی سرمایہ نہیں، ان کے لیے انتظار باقی
شمسی توانائی کی توسیع کے فوائد یکساں تقسیم نہیں ہورہے۔ صاحبِ استطاعت گھرانے اور کاروبار ابتدائی سرمایہ خرچ کرکے بل اور لوڈشیڈنگ سے اپنا تعلق کم کرسکتے ہیں، مگر کم آمدن خاندان اسی گرڈ پر انحصار کرتے ہیں جس کی بجلی مہنگی اور فراہمی غیر یقینی ہے۔
ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے ’عامر بھائی‘ کے نام سے فیس بک صفحہ چلانے والے سماجی کارکن عامر خان کہتے ہیں کہ کم آمدن تنہا خواتین کو شمسی توانائی تک رسائی میں خاص مشکلات پیش آتی ہیں۔
عامر خان نے 2018 میں اپنی جیب سے فلاحی کام شروع کیا تھا۔ ان کے فیس بک پیج کے پیروکاروں کی تعداد 500,000 سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اب کم آمدن خاندانوں کی طرف سے سولر نظام لگوانے کے لیے مدد کی متعدد درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔
بجلی کی دستیابی کے ساتھ قوتِ خرید کا سوال
ڈیرہ اسماعیل خان میں شمسی توانائی کا فروغ دکھاتا ہے کہ بجلی کی غیر یقینی فراہمی کس طرح نئی منڈیاں پیدا اور پرانے ہنر تبدیل کرسکتی ہے۔ تاجر، کاریگر اور کاشت کار اپنے اخراجات گھٹانے کے لیے سرمایہ لگارہے ہیں، روایتی الیکٹریشن بھی بدلتی طلب کے مطابق نیا کام سیکھ رہے ہیں۔
لیکن ماہانہ بل میں ممکنہ بچت اسی گھرانے کے لیے قابلِ حصول ہے جو پہلے نظام خرید سکے۔ یہی ابتدائی لاگت غریب خاندانوں کو اس تبدیلی سے باہر رکھتی ہے۔
یوں شہر کی چھتوں پر پھیلے پینل کامیاب کاروبار اور کم ہوتے بلوں کے ساتھ ایک معاشی فاصلے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ ’سولر اسماعیل خان‘ میں بجلی تک قابلِ اعتماد رسائی اب فراہمی کے علاوہ قوتِ خرید سے بھی جڑتی جارہی ہے۔