پاکستان میں زرعی پانی کی تقسیم کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنانے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور جدید ریاضیاتی نظام استعمال کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فصلوں کی پانی کی ضرورت کا اندازہ لگا کر آبپاشی کے پانی کی تقسیم بہتر بنائی جاسکتی ہے۔لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران ماہرین نے بتایا کہ اس نظام کے ذریعے نہ صرف پانی کی تقسیم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے بلکہ مختلف علاقوں میں فصلوں کو درکار پانی کی فراہمی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پنجاب میں منصوبے کا دائرہ وسیع کردیا گیا
اس منصوبے کا ابتدائی تجربہ بلوکی اور اوکاڑہ ڈویژن کی چند نہروں پر کیا گیا، جس کے بعد اسے لوئر باری دوآب کینال نظام کی تمام روٹیشن نہروں تک توسیع دی گئی۔
یہ نہری نظام پنجاب میں تقریباً 6 لاکھ 75 ہزار ہیکٹر زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، جو تقریباً ایک کروڑ 33 لاکھ کنال بنتا ہے۔ یہ ورکشاپ ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے جاری3 سالہ منصوبے کے تیسرے مرحلے کی تکمیل کے موقع پر منعقد ہوئی۔
سیٹلائٹ بتائے گا فصل کو کتنے پانی کی ضرورت ہے
منصوبے کے تحت سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے فصلوں میں پانی کی کمی کا اندازہ لگایا جائے گا۔ اس معلومات کو ریاضیاتی طریقوں کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے آبپاشی کے پانی کی تقسیم کے لیے سفارشات تیار کی جائیں گی۔
مجوزہ نظام فصلوں کی پانی کی ضروریات کے ساتھ نہروں میں پانی کی باریوں، پہلے سے طے شدہ ترجیحات اور عملی رکاوٹوں کو بھی مدنظر رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق روایتی نظام میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آبپاشی کے محکمے نے مقررہ مقدار میں پانی فراہم کیا یا نہیں، لیکن اس سے یہ لازمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ فصل کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی بھی ملا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اس فرق کو سمجھنے اور آئندہ آبپاشی کی باریوں میں پانی کی تقسیم بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
صرف نہریں بنانا کافی نہیں، نظام کے اصول بھی بدلنا ہوں گے
ایشیائی ترقیاتی بینک کے آبی انتظام کے مشیر ڈاکٹر ایس اے پرتھاپر نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبپاشی کے نظام کو جدید بنانے کا مطلب صرف نئی نہریں اور بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا نہیں، بلکہ پانی کی تقسیم کے طریقہ کار اور اس کے قواعد کو بھی بہتر بنانا ہے۔
ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پانی کی فراہمی کے فیصلوں کو فصلوں کی حقیقی ضروریات سے زیادہ قریب لایا جاسکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت بڑے چیلنجز
لمز کے ڈاکٹر ابوبکر محمد نے کہا کہ پاکستان کا آبپاشی کا نظام ملکی غذائی تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار کے لیے انتہائی اہم ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی، پانی کی دستیابی میں غیر یقینی صورت حال اور زرعی پیداوار کے بڑھتے اخراجات اس شعبے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، تقریباً حقیقی وقت میں نگرانی اور جدید فیصلہ سازی کے نظام آبپاشی کے منتظمین کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پانی کی تقسیم میں ٹیکنالوجی کے ساتھ سماجی انصاف، حکمرانی اور کسانوں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ورکشاپ میں پنجاب کے محکمہ آبپاشی اور محکمہ زراعت، واپڈا، وزارت آبی وسائل، سپارکو اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل سمیت مختلف اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
شرکا نے اس نظام کو وسیع پیمانے پر اپنانے، اس کی مزید جانچ، کسانوں کی شمولیت اور بارش کی پیش گوئیوں کو نظام میں شامل کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو یہ پنجاب میں آبپاشی کے انتظام کو بہتر بنانے، فصلوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے اور محدود آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔