نامور بھارتی دفاعی تجزیہ نگار پراوین ساہنی نے اپنے حالیہ جیو پولیٹیکل تجزیے میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں “مکہ ڈیفنس الائنس” کے تحت ہونے والی حالیہ تاریخ ساز بیٹھک اور “ایران کواڈ” کے قیام نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ اس پوری سفارتی اور عسکری پیش رفت میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت نے مرکزی معمار کا کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف مسلم دنیا کے اہم ممالک ایک صف میں آ گئے ہیں، وہیں دوسری طرف بھارت اور اسرائیل کے تمام اسٹریٹجک منصوبے ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکے ہیں۔
چار ملکی بیٹھک مکہ الائنس ہی کا عملی تسلسل
پراوین ساہنی کے مطابق، 26 اکتوبر کو تہران میں منعقد ہونے والی چار ملکی بیٹھک (“ایران کواڈ”) دراصل “مکہ ڈیفنس الائنس” کا ہی ایک تسلسل اور عملی مظہر ہے۔ اس اجلاس کا فوری مقصد یمن (انصار اللہ) اور سعودی عرب کے درمیان جاری دیرینہ تنازع کا مستقل حل نکالنا اور مغربی ایشیا میں ایک نیا اجتماعی سلامتی (Collective Security) کا ڈھانچہ تشکیل دینا تھا۔ اس اہم اجلاس میں سعودی عرب کے وزیر دفاع، ایران کے اعلیٰ عسکری حکام، ترکی کے انٹیلی جنس چیف اور پاکستان کے آرمی چیف نے شرکت کی۔
تہران اجلاس کی بنیادی پہل کاری فیلڈ مارشل نے کی
پراوین ساہنی نے اعتراف کیا کہ تہران میں 26 اکتوبر کی اس تاریخی میٹنگ کو ممکن بنانے اور اس کا آغاز کرنے میں پاکستانی آرمی چیف کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس نازک ترین اور کامیاب اجلاس میں آرمی چیف نے اپنے وفد کے ساتھ ذاتی طور پر شرکت کی۔
فیلڈ مارشل نے مفاہمت کی راہ ہموار کی
پراوین ساہنی نے بتایا کہ جب سعودی عرب کو یمن محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا تھا، تو فیلڈ مارشل نے سعودی قیادت کو قائل کیا کہ جنگ کی بجائے مذاکرات اور اجتماعی سلامتی ہی واحد راستہ ہے۔ اس مقصد کے لیے آرمی چیف نے خود دو بار تہران کے اہم دورے کیے اور ایرانی عسکری قیادت (جنرل محسن رضائی) کو سعودی عرب سے بات چیت اور مذاکرات پر آمادہ کیا۔
ترکی کو مکہ الائنس کا حصہ بنانا فیلڈ مارشل کی بڑی کامیابی
پراوین ساہنی کے مطابق، 13 اور 14 جولائی کو آرمی چیف نے ترکی کا دورہ کیا اور نیٹو کی دوسری بڑی عسکری طاقت یعنی ترکی کو “مکہ ڈیفنس الائنس” کا حصہ بنانے میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان نے جنوبی اور مغربی ایشیا کو جیو پولیٹیکلی جوڑ دیا
پراوین ساہنی کا ماننا ہے کہ فیلڈمارشل نے مکہ ڈیفنس الائنس اور ایران کواڈ دونوں پلیٹ فارمز کو کامیابی سے ہم آہنگ کیا ہے۔ اس شاندار حکمت عملی کے ذریعے پاکستان نے جیو پولیٹیکل سطح پر جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کو آپس میں مؤثر انداز میں جوڑ دیا ہے، جو کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی اور عسکری کامیابی ہے۔
امریکہ اور بھارت کا ویسٹ ایشیا کواڈ ختم
پراوین ساہنی کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور یو اے ای پر مشتمل ویسٹ ایشیا کواڈ اب مکمل طور پر غیر مؤثر اور ختم ہو چکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے اس دعوے کے برعکس کہ “بھارت کی سیکیورٹی مغربی ایشیا سے جڑی ہے”، اب اس کواڈ کا کوئی مستقبل نہیں رہا۔
آئی میک (IMEC) راہداری کا منصوبہ ناکام
پراوین ساہنی نے انکشاف کیا کہ بھارت اور اسرائیل جس اقتصادی راہداری (IMEC) پر انحصار کر رہے تھے، اس نے سعودی عرب سے گزرنا تھا۔ تاہم، سعودی عرب کے اس نئے سلامتی بلاک میں شمولیت کے بعد یہ منصوبہ اب عملی طور پر دم توڑ چکا ہے۔
اسرائیل خطے میں جارحانہ طاقت بن چکا ہے
پراوین ساہنی کے مطابق، خطے میں اسرائیل (جو امریکہ کی طاقت کے بل بوتے پر جنگیں لڑتا ہے) کو ایک جارحانہ اور بیرونی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے خلاف یہ نیا اتحاد اجتماعی ڈیٹرنس (Collective Deterrence) قائم کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے۔
مغربی ایشیا میں بھارت کا کردار اب صفر ہے
پراوین ساہنی نے اپنے تجزیے میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کی 90 لاکھ آبادی، تیل، گیس اور سمندری تجارت (بحیرہ احمر) کا انحصار خلیجی ممالک پر ہے، لیکن غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے مغربی ایشیا میں بھارت کا سفارتی اور عسکری کردار اب بالکل صفر ہو چکا ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت اور اسرائیل کو خطے کے اہم فیصلوں سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان نے اپنی جاندار عسکری سفارت کاری کے بل بوتے پر خود کو اس نئے علاقائی اور اسلامی بلاک کے مرکزی معمار کے طور پر منوا لیا ہے۔