افغان طالبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا خیبرپختونخوا میں دھماکوں سے متعلق جھوٹا اور من گھڑت دعویٰ بے نقاب

افغان طالبان  کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا خیبرپختونخوا میں دھماکوں سے متعلق جھوٹا اور من گھڑت دعویٰ بے نقاب

سوشل میڈیا پر افغان طالبان کے حامی اکاونٹس سے خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں کبل چوک پر   دھماکے اور پولیس اہلکاروں کی بھاری جانی نقصان  کا جھوٹا اور من گھڑت دعویٰ بے نقاب ہوگیا ہے۔

آزاد فیکٹ چیک  کے مطابق زمینی سطح پر تصدیق کے دوران کبل چوک یا سوات کے کسی دوسرے علاقے میں دھماکے یا دہشت گردانہ حملے کے شواہد نہیں ملے اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی خبریں من گھڑت ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پشتو زبان میں ایک اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ سوات کے علاقے کبل چوک میں ایک بڑا دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی پولیس اہلکاروں کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔

تاہم سکیورٹی سے متعلق بیان میں اس دعوے کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ زمینی حقائق اس کی تصدیق نہیں کرتے اور علاقے میں کسی دھماکے، فائرنگ یا دیگر مسلح حملے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان دشمن نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری ،آپریشن ردالفتنہ 3 میں سیکیورٹی فورسز نے 6 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا

بیان میں واضح کیا گیا کہ ضلع سوات میں امن و امان کی صورتحال برقرار ہے اور مقامی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی معمول کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی بھی کوئی تصدیق نہیں ہوئی اور پولیس کو نشانہ بنانے والے مبینہ دہشت گردانہ حملے کے کوئی مادی شواہد موجود نہیں ہیں۔

فیکٹ چیک کے مطابق  پاکستان مخالف ڈیجیٹل نیٹ ورکس من گھڑت سکیورٹی واقعات کو حقیقی حملوں کے طور پر پیش کرکے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس نوعیت کی غیر مصدقہ اطلاعات نہ صرف شہریوں کی روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کرسکتی ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

فیکٹ چیک میں جعلی دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں سے متعلق اطلاعات کی تشہیر کو نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا مقصد سکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے کا غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔ سکیورٹی حکام اور متعلقہ اداروں کی جانب سے عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی دھماکے، دہشت گردانہ حملے یا جانی نقصان کی اطلاع کو آگے پھیلانے سے قبل معتبر ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔

Related Articles