اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے اکتوبر 2024 میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران امورِ ریاست میں مداخلت اور سیکیورٹی خدشات پیدا کرنے کے کیس میں وکلائے صفائی کے شدید اعتراضات کے باوجود نامور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔
بدھ کے روز انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے آبپارہ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کی سماعت کی۔
وکیل و انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے اکتوبر 2024 میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران امورِ ریاست میں مداخلت کر کے سیکیورٹی رسک پیدا کرنے کے الزام میں دونوں وکلا پر فرد جرم عائد کی۔
فرد جرم کے موقع پر ملزمان اور ان کی دفاعی ٹیم کی جانب سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے۔ ہادی علی چٹھہ نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے ابھی تک کیس کے کاغذات کی کاپیاں بھی فراہم نہیں کی گئی ہیں‘، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک تمام قانونی تقاضے پورے نہیں ہو جاتے تب تک فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
دفاعی کونسل زینب جنجوعہ نے بھی عدالت میں زور دیا کہ نہ تو ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مطلوبہ کاپیاں ملی ہیں اور نہ ہی وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت فرد جرم عائد نہیں کر سکتی۔
ان اعتراضات کے جواب میں جج طاہر عباس سپرا نے دفاعی وکلا سے کہا کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کو اوپر چیلنج کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو اگلی سماعت پر ذاتی طور پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
مقدمات اور گرفتاریوں کا سلسلہ
دونوں وکیل 23 جنوری سے پولیس کی تحویل میں ہیں، جب انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ایک احتجاج کے سلسلے میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس گرفتاری کے اگلے ہی دن ایک سیشن کورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق پیکا (پرینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کے کیس میں دونوں کو متعدد چارجز کے تحت 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
طویل قانونی جنگ کے بعد 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں جوڑے کی سزا معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا حتمی فیصلے تک 200,000 روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔
تاہم یہ قانونی ریلیف انتہائی مختصر ثابت ہوا اور ضمانت کے چند گھنٹے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے دونوں کو ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر کے انسداد دہشتگردی عدالت کے سامنے پیش کر دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے بازی کرنے اور شاہراہوں کو بلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔