پاکستان اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور

پاکستان اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور

پاکستان اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے تیسرے روز موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ پاکستان، چین، تیونس، تھائی لینڈ، اٹلی اور دیگر شریک ممالک کے ماہرین نے موسمیاتی معلومات، قبل از وقت انتباہی نظام اور آفات سے نمٹنے کی جدید حکمت عملیوں سے متعلق اپنے تجربات اور معلومات کا تبادلہ کیا۔

’’تمام افراد کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام، موسمیاتی اقدامات اور آفات کے خطرات کے جائزے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے جاری کانفرنس کا تیسرا روز’’موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی‘‘ کے موضوع سے منسوب رہا، جس کے دوران تین تکنیکی اجلاسوں اور دو پینل مباحثوں کا انعقاد کیا گیا۔

’’موسمیاتی اقدامات کے لیے خلائی ٹیکنالوجی‘‘ کے موضوع پر تکنیکی اجلاس میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے کاربن کے اخراج، فضائی ذرات، درجہ حرارت کی شدت، جنگلات، زیرِ زمین پانی اور شہری فضائی آلودگی کی نگرانی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ ماہرین نے زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر انتظام اور قبل از وقت انتباہی نظاموں کو بہتر بنانے کے لیے زمینی مشاہداتی ٹیکنالوجی کی افادیت کو بھی اجاگر کیا۔

کانفرنس کے دوران ’’موسمیاتی خطرات اور طرزِ حکمرانی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں متعدد قدرتی آفات کے خطرات کا جائزہ لینے، شدید بارشوں کے تجزیے، فصلوں کی نگرانی، غذائی تحفظ اور خشک سالی کی پیش گوئی کے لیے جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

شرکاء نے تمام افراد کے لیے قبل از وقت انتباہی نظام   کے تحت آفات سے نمٹنے کے مؤثر نظام کی تشکیل، مالیاتی استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کی منصوبہ بندی میں خلائی ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی معلومات کو اہم قرار دیا۔

کانفرنس کے تیسرے روز دو اہم پینل مباحثوں کا بھی انعقاد ہوا، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات، مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خطرات کی نشاندہی جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

مباحثوں میں فصلوں کی پیداوار میں متوقع نقصان کے تخمینے، موسمیاتی خطرات کے لیے مالیاتی معاونت، سیلاب سے نمٹنے کی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں موسمیاتی خطرات کے جائزے کو شامل کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔

ماہرین نے خطرات کے درست تخمینے، مؤثر بیمہ نظام کی تشکیل اور مالیاتی فیصلوں میں جدید ٹیکنالوجی کے ممکنہ کردار کو بھی اجاگر کیا۔ اس موقع پر سائنسی اداروں، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں اور مالیاتی شعبے کے درمیان مضبوط روابط اور تعاون کو ضروری قرار دیا گیا۔

کانفرنس کے تیسرے روز کی کارروائیوں میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ خلائی ٹیکنالوجی قدرتی آفات سے قبل مؤثر انتباہی نظام کی تشکیل، موسمیاتی خطرات سے متعلق طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

شرکاء نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے، جدید سائنسی معلومات کے تبادلے اور مستند شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

Related Articles