لگژری زندگی اور کھلی نمک حرامی! آباؤ اجداد کی غداری کی تاریخ دہراتے ہوئے فضل الرحمان نے ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے دشمن ہیں، عوام برس پڑے
Home - آزاد انتخاب - لگژری زندگی اور کھلی نمک حرامی! آباؤ اجداد کی غداری کی تاریخ دہراتے ہوئے فضل الرحمان نے ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے دشمن ہیں، عوام برس پڑے
ریاست اور شہداء کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف پورے ملک سے شدید ترین عوامی ردعمل کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان خود کو سیاسی طور پر بڑا ثابت کرنے کی دھن میں کھلم کھلا اینٹی پاکستان ایجنڈے پر گامزن ہیں اور دشمن عناصر کے تقاضے بخوبی پورے کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ریاست کے لیے “تھو” کا لفظ استعمال کیے جانے پر ملک بھر میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں اور ریاست پاکستان کی حرمت پر حملہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سوشل میڈیا اور گلی محلوں میں عوام نے ایک ہی آواز میں ایسی قیادت اور سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید نفرت و ملامت کا اظہار کیا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے مولانا کی پرتعیش زندگی اور حاصل کردہ مراعات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ملک اور ریاست کے وسائل سے تمام تر لگژری لائف جینے کے باوجود، اہم مواقع پر ملک دشمنی اور نمک حرامی کی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں۔
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے آنے والے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اپنے عمل اور بیانات سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان کی بنیادی جڑوں کے خلاف ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ریاستِ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے اور مولانا کو قوم کے سامنے فوری حساب دینا ہوگا۔