وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں خطاب کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں کے لیے ریاست صرف اس وقت تک ماں ہوتی ہے جب تک یہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں، جب ریاست سے مال، عہدے یا حکومت میں حصہ نہ ملے تو اسی ریاست کے خلاف باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے حد پار کر دی ہے اور اب ان کی تنقید کا ہر صورت جواب دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل ان پر تنقید کر رہے ہیں، تاہم اگر کوئی دوسروں پر تنقید کرتا ہے تو اسے جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔ یہ مناسب طرزِ عمل نہیں کہ کوئی باہر جا کر جو چاہے کہتا رہے لیکن جب اسے جواب دیا جائے تو سننے کے لیے تیار نہ ہو۔
محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت پر مذہب کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اسلام کو کاروبار، سیاست اور ہر اس معاملے میں استعمال کرتے ہیں جہاں انہیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے نزدیک ریاست صرف اس وقت تک قابلِ احترام ہوتی ہے جب تک انہیں اس سے فائدہ پہنچتا رہے۔ ان کے بقول جب تک ریاست سے مال ملتا رہے، ریاست بہت اچھی ہوتی ہے، لیکن جب حکومت میں حصہ یا مطلوبہ مراعات نہ ملیں تو ریاست کے خلاف باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔
وزیر داخلہ نے سخت الفاظ میں کہا کہ اب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملنی، ریاست سے پیسے نہیں ملنے اور نہ ہی انتخابی ٹکٹ ملنے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنقید کے دوران حدود پار کی جائیں گی تو اس کا جواب بھی دیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر بھی محسن نقوی نے اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آج حزبِ اختلاف میں بیٹھنے والے یہی لوگ ماضی میں گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں موجود سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہی لوگ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگنے سے پہلے ہمارے پاس آتے تھے اور کہتے تھے کہ گورنر راج نافذ کریں تاکہ ہماری ان سے جان چھوٹے۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس بات کو ثابت بھی کر سکتے ہیں۔
محسن نقوی نے ایران کے دورے اور مبینہ دفاعی معاہدے سے متعلق مولانا فضل الرحمان کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ پاکستانی وفد ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ کرنے گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران میں موجودہ حالات کو سنبھالنے کے لیے گئے تھے اور ان کا دورہ وزیراعظم کی ہدایات اور سونپی گئی ذمہ داریوں کے تحت تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ملک کے دورے پر ذاتی شوق سے نہیں جاتے بلکہ وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے ٹاسک پورے کرنے کے لیے جاتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ریاست کے بارے میں استعمال کی گئی زبان کے بعد احترام کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام مسلسل حدود پار کر رہی ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہر صورت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ نے بلیو پاسپورٹس اور مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ بلیو پاسپورٹس سے متعلق فیصلہ ایوان نے کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی میں آئندہ چھ ماہ کے دوران بہتری متوقع ہے جبکہ کینیا، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سمیت مختلف ممالک کے ساتھ بلیو پاسپورٹس کے حوالے سے معاہدوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ چھ ماہ میں 25 ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری سے متعلق معاملات حل ہونے کی توقع ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ویزا فری انٹری کے انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے قطر کے ساتھ بھی جلد پیش رفت کی توقع ظاہر کی۔
وزیر داخلہ کے مطابق بلیو پاسپورٹس کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ بعض ممالک اتنی زیادہ تعداد کی وجہ سے ویزا استثنیٰ کے معاہدوں پر تحفظات ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 22 ہزار بلیو پاسپورٹس منسوخ کیے جا چکے ہیں اور فی الحال ان کے اجرا پر پابندی عائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ ارکانِ قومی اسمبلی کو ان کی مدت کے مطابق بلیو پاسپورٹس فراہم کیے جائیں گے جبکہ پاسپورٹس کے نظام میں بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے ای پاسپورٹ کی جانب پیش رفت کی جا رہی ہے۔