وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، جولائی سے ستمبر تک، کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی، جس میں ترسیلاتِ زر، برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکس وصولیوں، صنعتی پیداوار اور زرعی قرضوں سمیت معیشت کے مختلف شعبوں کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی شعبوں میں سالانہ بنیاد پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم درآمدات اور مہنگائی میں اضافے نے معاشی صورتحال کے مختلف پہلو بھی نمایاں کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ستمبر 2026 میں ترسیلاتِ زر 12.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.6 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
برآمدات اور درآمدات دونوں میں اضافہ
وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ملکی برآمدات 7.7 فیصد اضافے کے بعد 8.5 ارب ڈالر رہیں، جبکہ صرف ستمبر میں برآمدات کا حجم 15.5 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب پہلی سہ ماہی کے دوران درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق درآمدات 14.1 فیصد بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر ہوگئیں، جبکہ ستمبر 2026 میں ان کا حجم سالانہ بنیاد پر 22.7 فیصد اضافے کے بعد 6.2 ارب ڈالر رہا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری
رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 19.9 فیصد اضافے کے ساتھ 719.7 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ ستمبر 2026 کے دوران اس سرمایہ کاری کا حجم 219.5 ملین ڈالر رہا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اکتوبر 2026 میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر رہے، جبکہ 28 اکتوبر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر 278.6 روپے ریکارڈ کی گئی۔
ٹیکس وصولیاں اور مالیاتی خسارہ
مالیاتی صورتحال سے متعلق اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں 3 ہزار 86.2 ارب روپے رہیں۔ ستمبر میں ٹیکس وصولیوں کا حجم ایک ہزار 363.8 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11.5 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں وفاقی نان ٹیکس آمدن 2 ہزار 365.9 ارب روپے رہی، جبکہ مالیاتی خسارہ ایک ہزار 197.9 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ وزارتِ خزانہ نے پہلی سہ ماہی کے بنیادی بجٹ سرپلس کا حجم 2 ہزار 311.2 ارب روپے بتایا ہے۔
مہنگائی 10 فیصد سے تجاوز کرگئی
وزارتِ خزانہ کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو پالیسی ریٹ 12 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مہنگائی کی شرح 10.2 فیصد رہی، جبکہ ستمبر 2026 میں یہ بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگئی۔ اس کے مقابلے میں ستمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی،اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو صارفین کے لیے قیمتوں کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
صنعتی پیداوار اور زرعی قرضوں میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.85 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگست 2026 میں بڑی صنعتی پیداوار کی شرح نمو 0.67 فیصد ریکارڈ کی گئی،زرعی شعبے میں پہلی سہ ماہی کے دوران 540.5 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32.7 فیصد زیادہ ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ اور نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق 28 اکتوبر 2026 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس ایک لاکھ 65 ہزار 736 پوائنٹس پر رہا، جو گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں 3.52 فیصد زیادہ ہے،اکتوبر 2026 میں اسٹاک مارکیٹ کی سرمایہ کاری کا حجم 18.33 کھرب روپے، جبکہ ڈالر میں اس کی مالیت 66.22 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 15 ہزار 440 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 37.3 فیصد زیادہ ہے۔
مجموعی طور پر وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں ترسیلاتِ زر، برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری، ٹیکس وصولیوں، صنعتی پیداوار، زرعی قرضوں اور نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ درآمدات اور مہنگائی میں اضافے کے اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔
