باٹس لافنگ لگانے والوں کے منہ پر زوردار تھپڑ ڈی جی آئی ایس پی آر کا دورہ پشاور،پرتپاک استقبال،روایتی پختون پگڑی اور چادر بھی پہنائی گئی
Home - اہم خبریں - باٹس لافنگ لگانے والوں کے منہ پر زوردار تھپڑ ڈی جی آئی ایس پی آر کا دورہ پشاور،پرتپاک استقبال،روایتی پختون پگڑی اور چادر بھی پہنائی گئی
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز جاری رہیں گے، جبکہ دشمن قوتوں اور شرپسند عناصر کے عزائم کو باہمی اتحاد اور قانون کی بالادستی کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات اور سینئر فیکلٹی ممبران کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران ملکی سیکیورٹی صورتحال اور خطے کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر شرکاء نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ طلبہ کی جانب سے انہیں روایتی پختون پگڑی اور چادر بھی پہنائی گئی۔
نشست کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر طلبہ کے سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم اور خیبرپختونخوا پولیس نے پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں، جن کا پورا ملک معترف ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے نوجوان نسل کے پاک فوج پر اعتماد اور وطن کی سلامتی کے لیے ان کے جذبے کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور دشمن قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد اور قانون کی بالادستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
خصوصی نشست کے اختتام پر طلبہ نے وطن کے دفاع اور ملکی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا،اس موقع پر ایک طالب علم نے کہا کہ اس اہم نشست کے ذریعے انہیں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی وجوہات اور اس کے مثبت اثرات کو سمجھنے کا موقع ملا۔ ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ نشست کے انعقاد سے انہیں سیکیورٹی کے حوالے سے پاک فوج کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی ہے اور انہیں اپنی افواج پر فخر ہے۔
ایک طالب علم نے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے حوالے سے پاک فوج کے کردار پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبادلۂ خیال سے نوجوانوں کو قومی سلامتی کے معاملات سمجھنے اور اپنے نقطۂ نظر کو بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔