پنجاب میں جلد انصاف کی فراہمی کے لیے متبادل نظام متعارف کرانے کی تجویز

پنجاب میں جلد انصاف کی فراہمی کے لیے متبادل نظام متعارف کرانے کی تجویز

پنجاب میں عدالتوں پر مقدمات کا دباؤ کم کرنے اور تنازعات کے جلد حل کے لیے متبادل نظام متعارف کرانے کی کوشش آگے بڑھ گئی ہے۔ پنجاب متبادل تنازعات کے حل کا آرڈیننس 2026 مزید غور کے لیے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اسے منظوری کے لیے دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

مجوزہ نظام کے تحت فریقین طویل عدالتی کارروائی کے بجائے اپنی رضامندی سے ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کر سکیں گے۔ تصفیہ ہونے پر متعلقہ عدالت قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ اور ڈگری جاری کرے گی۔

ثالثی کے نظام کی نگرانی کے لیے اتھارٹی

آرڈیننس میں متبادل نظام کی نگرانی کے لیے اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے نامزد جج، منظور شدہ ثالث اور مجاز مراکز تنازعات حل کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اتھارٹی ثالثوں اور مراکز کی منظوری، تجدید اور تربیتی اداروں کی منظوری سے متعلق طریقۂ کار بھی طے کر سکے گی۔ منظور شدہ ثالثوں اور مراکز کی فہرست لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو فراہم کی جائے گی۔

مجوزہ دائرہ کار میں خاندانی تنازعات، بچوں کی سرپرستی اور تحویل، تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد، ہرجانے کی وصولی، منقولہ جائیداد کے معاملات اور مشترکہ غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وراثت، جانشینی، مشترکہ جائیداد کے حسابات، پیشہ ورانہ غفلت، صارفین کے تنازعات اور کاپی رائٹ سے متعلق معاملات بھی اس نظام کے ذریعے حل کیے جا سکیں گے۔

ثالث کے انتخاب میں فریقین کی رضامندی

مجوزہ طریقۂ کار کے مطابق فریقین باہمی اتفاق سے منظور شدہ ثالث یا مرکز منتخب کر سکیں گے۔ اگر دونوں کسی ایک نام پر متفق نہ ہوں تو عدالت منظور شدہ فہرست میں سے ثالث یا مرکز کا انتخاب کر سکے گی۔

کارروائی میں فریقین خود، اپنے مجاز نمائندوں یا وکلا کے ذریعے شریک ہو سکیں گے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک اور جدید ذرائع سے کارروائی میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

آرڈیننس میں ثالثی کے دوران ہونے والی گفتگو اور کارروائی کو خفیہ رکھنے کی شق بھی شامل ہے۔ فیس اور دیگر اخراجات فریقین باہمی رضامندی سے تقسیم کریں گے، جبکہ خواتین سے متعلق تنازعات میں ترجیحی بنیادوں پر خاتون ثالث مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گورنر پنجاب نے اس آرڈیننس کی منظوری 6 اکتوبر 2026 کو 90 روز کے لیے دی تھی۔ اب قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اسے پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ایوان کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر سکے گا۔

editor

Related Articles