افغانستان میں پوست کی کاشت 4 گنا، افیون کی پیداوار 5 گنا اضافہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

افغانستان میں پوست کی کاشت 4 گنا، افیون کی پیداوار 5 گنا اضافہ، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے منشیات اور پوست کی کاشت پر پابندی کے باوجود افیون کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ ایک سال کے دوران چار گنا سے زیادہ بڑھ گیا، جبکہ افیون کی متوقع پیداوار میں پانچ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی 29 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2025 میں تقریباً 10 ہزار ہیکٹر تھا، جو 2026 میں بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر سے تجاوز کر گیا۔ یوں پوست کی کاشت میں تقریباً 330 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی متوقع پیداوار بھی 2025 کے تقریباً 300 ٹن سے بڑھ کر 2026 میں تقریباً 1500 ٹن تک پہنچ گئی، جو ایک سال کے دوران پانچ گنا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق طالبان حکومت نے 2022 میں پوست کی کاشت اور منشیات پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2 لاکھ 32 ہزار ہیکٹر سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 10 ہزار ہیکٹر رہ گیا تھا۔ تاہم تازہ رپورٹ میں چار سال بعد پہلی مرتبہ پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کی پالیسیوں سے تنگ حلقوں کی مسلح مزاحمت میں تیزی آ گئی، افغانستان کے کئی صوبوں میں حملے تیز، متعدد طالبان مارے گئے

اناج کی فصلوں اور دیواروں کے پیچھے پوست کی خفیہ کاشت

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں بعض کسان پوست کی فصلیں اناج کی فصلوں کے درمیان یا چار دیواری کے اندر چھپا کر کاشت کر رہے ہیں، جس کے باعث ان کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غربت اور متبادل ذرائع آمدن کی کمی کے باعث متعدد کسان دوبارہ پوست کی کاشت کی جانب راغب ہو رہے ہیں، کیونکہ دوسری زرعی فصلوں کے مقابلے میں اس سے زیادہ آمدن حاصل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

بدخشاں افغانستان میں پوست کی کاشت کا بڑا مرکز بن گیا
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں پوست کی کاشت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی 2022 کی پابندی کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت کا جغرافیائی مرکز بھی تبدیل ہوا اور ملک کے جنوب مغربی علاقوں کے مقابلے میں شمال مشرقی علاقوں، خصوصاً بدخشاں، میں کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور

طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار مسترد کر دیے

دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق طالبان حکام نے رواں سال منشیات پیدا کرنے والی فصلوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور ہزاروں ہیکٹر رقبے سے ایسی فصلیں تلف کی گئی ہیں۔

طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے تخمینوں میں ان کارروائیوں کے نتائج کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کا عالمی تعاون اور کسانوں کے لیے متبادل روزگار پر زور

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے صرف پابندیاں کافی نہیں، بلکہ غریب کسانوں کو متبادل زرعی فصلوں، روزگار اور آمدن کے قابل عمل مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون یورپی منڈیوں میں ہیروئن کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے اہم ذرائع میں شامل رہی ہے۔ اس لیے پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں دوبارہ اضافہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، متبادل معاشی مواقع اور کسانوں کی معاونت پر زور دیا ہے۔

اگرچہ افغانستان میں پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار 2022 میں طالبان کی پابندی سے پہلے کی سطح سے اب بھی کافی کم ہے، تاہم 2026 کے اعداد و شمار میں نمایاں اضافے نے پابندی کے مؤثر نفاذ اور اس کے مستقبل سے متعلق نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

Related Articles