وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ علاقائی بحرانوں کے باوجود پاکستان کی معیشت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی برآمدات، ترسیلات زر اور ٹیکس محصولات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر جانچ پڑتال کے ذریعے اربوں روپے کی بچت بھی کی گئی ہے۔
ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ اکتوبر 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کی حقیقی معاشی خودمختاری کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقائی بحران کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی سے ستمبر کے دوران اشیا کی برآمدات 8.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی عرصے میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 10.9 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پاکستان کو درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت کے بجائے برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت ملک کے ہر ضلع کا الگ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ پلان تیار کیا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے صوبوں میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کی طرز پر بورڈ آف ایکسپورٹس قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ پاکستان کے ہر ضلع کی مقامی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچیں اور برآمدات میں اضافہ ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں مسلسل روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سالانہ 5 سے 6 فیصد معاشی ترقی ضروری ہے، جبکہ پائیدار معاشی ترقی کا راستہ برآمدات میں اضافے سے ہو کر گزرتا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال سے 14 ارب 50 کروڑ روپے کی بچت
احسن اقبال نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال اور لاگت کے جائزے کے ذریعے 14 ارب 50 کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صرف ستمبر کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال کے نتیجے میں 7 ارب روپے کی لاگت بچائی گئی، جبکہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 61 ارب 30 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع کی فنڈنگ میں کمی نہیں، اضافہ کیا گیا
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ان علاقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز میں کمی نہیں بلکہ اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران ضم شدہ اضلاع کے لیے ایکسلریٹڈ امپلی مینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت 118 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
احسن اقبال کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور پولیس کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرنے کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے پولیس کا مضبوط اور مؤثر ڈھانچہ ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں 50 ہزار گھروں کو شمسی توانائی فراہم کرنے کے منصوبے کا جلد آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ مقامی سطح پر اداروں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔
بااختیار ضلعی حکومتوں کے قیام اور مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے پر زور
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بااختیار ضلعی حکومتوں کا قیام ضروری ہے، کیونکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا مؤثر جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے، جبکہ ضلعی سطح پر مضبوط ادارے عوام کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صنعتی بجلی سستی کرنے اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بجلی کی چوری اور ترسیلی نظام میں نقصانات پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کوانٹم ویلی پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرے گی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کرے گی۔
ایک کروڑ 27 لاکھ افراد پیٹرولیم ریلیف سے مستفید
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ پیٹرولیم ریلیف سے ایک کروڑ 27 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ بحرانی صورتحال میں سیاسی محاذ آرائی کے بجائے دانشمندانہ اور محتاط فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اڑان پاکستان کے تحت برآمدات میں اضافے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے معاشی استحکام کو دیرپا ترقی میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
