کیا پورا اسرائیل قطر کی ملکیت ہے؟‘ انتخابی الزامات پر قطر کا طنزیہ ردعمل

کیا پورا اسرائیل قطر کی ملکیت ہے؟‘ انتخابی الزامات پر قطر کا طنزیہ ردعمل

قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور ووٹروں کو متاثر کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسرائیل کے اندرونی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ بعض اسرائیلی سیاست دان وزیراعظم نیتن یاہو، بائیں بازو کی جماعتوں اور اب عرب ووٹروں کو بھی قطر کی جانب سے خریدے جانے کے الزامات لگا رہے ہیں۔

ماجد الانصاری نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دان اور ان سے وابستہ ذرائع ابلاغ قطر کو اپنے سیاسی تنازعات کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کو انتخابی برتری کے باوجود دھچکا، صرف 53 نشستیں حاصل

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان دعوؤں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو گویا پورا اسرائیل ہی قطر کی ملکیت بن چکا ہے۔ قطری ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اسرائیل کے سیاسی یا انتخابی مقابلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا اور نہ ہی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کی گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل دین لیوین نے بھی بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق منظم انتخابی بے ضابطگیوں کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا اور ووٹنگ قانون کے مطابق ہوئی۔

واضح رہے کہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں نے حالیہ انتخابات میں عرب سیاسی جماعتوں پر قطر سے مالی معاونت حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کی وجہ عرب جماعتوں کی ریکارڈ کامیابی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles