بابر اعظم کیلئے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ ٹیم میں تنہا ہیں، وقار یونس نے ناقدین کی بولتی بند کروادی

بابر اعظم کیلئے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ ٹیم میں تنہا ہیں، وقار یونس نے ناقدین کی بولتی بند کروادی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وقار یونس نے بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے قومی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ کے بیٹنگ ڈھانچے پر اہم سوالت اٹھا دیئے ۔

 بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وقار یونس کا بابر اعظم کے حق میں دیا گیا یہ  بیان اس وقت عالمی میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے۔

سچن ٹنڈولکر کی مثال اور بیٹنگ آرڈر کا موازنہ

سابق کپتان نے بھارتی کرکٹ کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ رقم کرنیوالے سچن ٹنڈولکر کبھی اکیلے نہیں کھیل رہے تھے،  ان کے ساتھ راہول ڈریوڈ، سارو گنگولی، وی وی ایس لکشمن اور وریندر سہواگ جیسے ورلڈ کلاس کرکٹرز کی دیوار موجود تھی جو دباؤ کو تقسیم کر دیتی تھی۔

 انہوں نے واضح کیا کہ بابر اعظم کے ساتھ سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ موجودہ ٹیم میں بالکل تنہا پڑے ہوئے ہیں، اور جب پوری ٹیم کا بوجھ صرف ایک ہی کھلاڑی کے کندھوں پر ہوگا تو اس پر غیر معمولی دباؤ آنا فطری بات ہے۔

90 کی دہائی کا دور اور توقعات کا دباؤ

 وقار یونس کا کہنا تھا کہ اگر آج کی ٹیم سے 90 کی دہائی کا موازنہ کیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے ،  90 کی دہائی میں پاکستان کے ٹاپ چھ بلے بازوں کے نام ہر شائقین  کو ازبر تھے، لیکن آج بابر اعظم کے علاوہ دوسرا کون سا بڑا نام نظر آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بابر نے کیریئر کے آغاز میں اتنا شاندار کھیل پیش کیا کہ قوم کی توقعات آسمان کو چھونے لگیں، اور اب اگر وہ چار سے پانچ میچز میں پرفارم نہ کر پائے تو پورا ملک اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بابر اعظم کا ایک اور شاندار اعزاز: 16 ہزار رنز مکمل کر کے پاکستان کے پانچویں بڑے بلے باز بن گئے

وقار یونس نے بابر اعظم کی صورتِ حال کا موازنہ بھارتی اسٹار بیٹر ویرات کوہلی سے کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی کھلاڑی سے ہر میچ میں سنچری، نصف سنچری یا بڑی اننگز کی توقع کی جائے تو چند میچز میں ناکامی بھی تنقید کی وجہ بن جاتی ہے۔

عالمی میڈیا پر بحث 

وقار یونس کے اس  جواب نے نہ صرف قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ آرڈر کے کھوکھلے پن کو یکسر بے نقاب کر دیا ہے، بلکہ بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی ماننے پر مجبور کر دیا ہے کہ بابر اعظم جیسے ورلڈ کلاس بیٹر کو دیگر کھلاڑیوں کے مستقل ساتھ اور مضبوط مڈل آرڈر کی اشد ضرورت ہے، ورنہ مسلسل تنہائی کا یہ دباؤ قومی کرکٹ کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

editor

Related Articles