دنیا پر شدید گرمی کا نیا خطرہ منڈلانے لگا، ’گاڈزیلا ال نینو‘ کتنی تباہی لا سکتا ہے

دنیا پر شدید گرمی کا نیا خطرہ منڈلانے لگا، ’گاڈزیلا ال نینو‘ کتنی تباہی لا سکتا ہے

موسمیاتی سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ’گاڈزیلا ال نینو‘ کے نام سے موسوم ایک طاقتور موسمیاتی رجحان آئندہ 6 ماہ کے دوران دنیا بھر میں شدید گرمی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کے نتیجے میں تقریباً 3 لاکھ 73 ہزار اضافی اموات ہو سکتی ہیں، جبکہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

امریکا کی یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب سے وابستہ سائنس دانوں نے اکتوبر 2026ء سے مارچ 2027ء کے دوران ممکنہ ال نینو کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ان علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث انسانی صحت کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے تخمینوں کے مطابق نائیجیریا میں شدید گرمی کے باعث تقریباً 56 ہزار اضافی اموات کا خدشہ ہے، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 55 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ انڈونیشیا میں تقریباً 29 ہزار اور برازیل میں 19 ہزار اضافی اموات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل نے جیمنائی 4 کاربن اور جینی 4 متعارف کرا دیے، نئی اے آئی ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زیرِ تشکیل ال نینو حالیہ تاریخ کے طاقتور ترین واقعات میں سے ایک بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی درجہ حرارت، موسموں اور انسانی صحت پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

گاڈزیلا ال نینو کیا ہے؟

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہونے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھر کے موسمی نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور بعض علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں جنم لے سکتی ہیں۔

یہ رجحان عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران سامنے آتا ہے، تاہم ہر مرتبہ اس کی شدت اور اثرات مختلف ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا اے آئی کا طبی مشورہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے؟ چیٹ جی پی ٹی کے خلاف مقدمہ دائر

امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق اکتوبر سے دسمبر 2026ء کے دوران ال نینو کے تاریخی شدت اختیار کرنے کا امکان 83 فیصد ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور شدید موسمی حالات کا سبب بن سکتا ہے۔

کیا اموات کی یہ تعداد یقینی ہے؟

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ 3 لاکھ 73 ہزار اموات کا تخمینہ حتمی پیش گوئی نہیں بلکہ ممکنہ خطرات پر مبنی اندازہ ہے۔ اصل تعداد کا انحصار موسم کی شدت اور حکومتوں کی جانب سے حفاظتی اقدامات پر ہوگا۔

سائنس دانوں کے مطابق بروقت موسمی انتباہی نظام، ٹھنڈک مراکز کا قیام، صحت کی بہتر سہولیات اور شدید گرمی کے دوران بیرونی کام کے اوقات محدود کرنے جیسے اقدامات سے ممکنہ جانی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔

editor

Related Articles