خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کے انکشافات

خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کے انکشافات

خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں مرکزی خریداری کے نظام کو نظرانداز کر کے مہنگے داموں ادویات اور طبی سامان کی خریداری کا انکشاف ہوا ہے، جس نے صحت کارڈ پروگرام میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے ۔

پی ٹی آئی دور کے 13 سالہ حکمرانی کی ایک اور کرپشن سامنے آگئی ، صحت کارڈ پلس پروگرام صوبے کے رہائشیوں کو انشورنس ماڈل کے تحت مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کا ایک فلیگ شپ اقدام ہے،  اس پروگرام کے تحت حکومت انشورنس ایجنسی کو ایک مقررہ پریمیم ادا کرتی ہے، جو بعد میں پینل یافتہ ہسپتالوں کو طبی خدمات کے عوض ادائیگیاں کرتی ہے ۔

پروگرام کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ داری پروگرام مینجمنٹ یونٹ کے پاس ہے تاہم حالیہ رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ مجموعی طبی اخراجات کا تقریباً 40 سے 45 فیصد حصہ ادویات، طبی آلات اور دیگر استعمال ہونے والے سامان پر خرچ ہوتا ہے، جو ہسپتال اپنے انفرادی خریداری کے نظام کے ذریعے حاصل کرتے ہیں.

رعایت کا حیران کن فرق 

رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ سے منسلک ہسپتالوں اور سرکاری مرکزی خریداری کے نظام میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے،  صوبائی حکومت کا اپنا ایک منظم مرکزی خریداری کا نظام موجود ہے، جو مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان سے براہ راست خریداری پر مارکیٹ قیمت سے 70 فیصد تک کی بھاری رعایت حاصل کرتا ہے.

اس کے برعکس صحت کارڈ کے تحت ہسپتال مقامی طبی ادویات کے سٹورز اور سپلائرز سے خریداری کرتے ہیں، جہاں یہ رعایت بمشکل 15 فیصد تک محدود رہتی ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس میں الگ الگ خریداری کے باعث سرکاری خزانے کو غیر ضروری مالی نقصان پہنچا ہے جس سے صحت کارڈ کے تحت ادویات کی خریداری میں قیمتوں، معیار اور شفافیت کی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

رپورٹ میں صحت  کارڈ پلس میں ادویات کی خریداری کا ڈیجیٹل اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ صحت کارڈ پلس کے خریداری نظام کو فوری طور پر سرکاری مرکزی نظام سے منسلک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔

پی ٹی آئی دور کی شفافیت کا پردہ چاک ، معیار اور شفافیت پر سوالیہ نشان

مرکزی نظام سے انحراف کے باعث نہ صرف قیمتوں میں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے بلکہ معیار اور شفافیت کی نگرانی پر بھی سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں  ، صحت عامہ اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر چلنے والے فلیگ شپ پروگراموں میں اس طرح کی سنگین مالی بے ضابطگیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مفاد پرست مافیا قومی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے۔

 ایک طرف سرکاری سطح پر انتہائی سستے داموں ادویات کی فراہمی کا نظام موجود ہے، لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی دور کے صحت کارڈ کے ہسپتالوں کی جانب سے جان بوجھ کر مقامی سپلائرز سے مہنگے داموں خریداری کرنا براہِ راست قومی خزانے اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

editor

Related Articles