دنیا کے گھنے بارانی جنگلات میں ایک ایسا منفرد درخت بھی پایا جاتا ہے جسے عام طور پر ’واکنگ پام‘ یا چلنے والا درخت کہا جاتا ہے۔ سائنسی زبان میں اس کا نام ’سوکریٹیا ایکزورائزا‘ ہے اور یہ لاطینی امریکہ کے بارانی جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
اس درخت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی غیر معمولی جڑیں ہیں، جو زمین کے اوپر مخروطی شکل میں پھیلی ہوتی ہیں اور اسے ایک منفرد ساخت فراہم کرتی ہیں۔
مقامی روایات کے مطابق یہ درخت سورج کی روشنی حاصل کرنے کے لیے اپنی جگہ تبدیل کر سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے گھنے جنگل میں روشنی کم ملتی ہے تو یہ روشنی کی سمت نئی جڑیں اگاتا ہے، جبکہ دوسری جانب کی پرانی جڑیں وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی عمل کو بعض لوگ درخت کے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے سے تعبیر کرتے ہیں۔
تاہم، سائنس دانوں کے درمیان اس درخت کے حقیقتاً چلنے کے دعوے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس بات کے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں کہ یہ درخت اپنی جگہ چھوڑ کر باقاعدہ حرکت کرتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کی مخصوص جڑیں دلدلی اور ناہموار زمین پر اسے سہارا دینے اور مضبوطی سے کھڑا رکھنے میں مددگار ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود ’واکنگ پام‘ اپنی غیر معمولی ساخت اور حیرت انگیز جڑوں کی وجہ سے سیاحوں اور قدرت سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے۔