صرف تعمیراتی ٹھیکوں میں ہی نہیں فضل الرحمٰن کے بیٹے میڈیکل فنڈز میں بھی کروڑوں روپے کی لوٹ مارکی،3 ارب 26 کروڑ 16 لاکھ کی بے ضابطگیوں کا سکینڈل آ گیا

صرف تعمیراتی ٹھیکوں میں ہی نہیں فضل الرحمٰن کے بیٹے میڈیکل فنڈز میں بھی کروڑوں روپے کی لوٹ مارکی،3 ارب 26 کروڑ 16 لاکھ کی بے ضابطگیوں کا سکینڈل آ گیا
 جے یو آئی (ف) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت میں ادویات اور میڈیکل آلات کی خریداری میں کروڑوں روپے کا میگا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ وزارتِ مواصلات، پاکستان پوسٹ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے اربوں روپے کے بجٹ کو ٹھکانے لگانے اور کرپشن کے مبینہ منصوبے جے یو آئی (ف) کے اسلام آباد میں واقع مرکزی دفتر اور اہم ٹھکانوں پر بیٹھ کر تیار کیے جاتے رہے، جن کا براہِ راست ذمہ دار سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود کو قرار دیا جا رہا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2022-23 کی آڈٹ رپورٹ نے جے یو آئی کے کوٹے میں آنے والی وزارتِ مواصلات کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ادویات اور میڈیکل سامان کی یہ خرد برد وزارتِ مواصلات کے ان 5 بڑے پروکیورمنٹ کیسز کا حصہ ہے جن کا مجموعی مالی حجم 3 ارب 26 کروڑ 16 لاکھ روپے ہے، جس میں سے کروڑوں روپے خالصتاً میڈیکل فنڈز کی لوٹ مار کی نذر ہوئے۔
 پچھلی حکومت کے دوران وزارتِ مواصلات کے اہم ٹھیکوں، بھرتیاں کرنے اور فنڈز کی بندر بانٹ کے فیصلے سرکاری دفاتر کے بجائے مبینہ طور پر جے یو آئی کے اسلام آباد میں واقع دفتر اور اہم بیٹھکوں میں کیے جاتے رہے۔ مینوفیکچررز، دوا ساز کمپنیوں اور چیدہ چیدہ سپلائرز کو نوازنے کے لیے باقاعدہ طور پر من پسند مینیجرز کے ذریعے نیٹ ورک چلایا گیا، جس کی تمام تر اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری براہِ راست اس وقت کے وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود پر عائد ہوتی ہے۔
آڈٹ دستاویزات کے مطابق، محکمے کے اعلیٰ افسران اور خریداری کمیٹی نے اپنے سیاسی آقاؤں اور مخصوص دوا ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پاکستان پوسٹ کی ڈسپنسریوں اور ملازمین کے میڈیکل فنڈز کے تحت حجم اور ضرورت سے کہیں زیادہ مقدار میں ادویات دیکھیں۔ سرکاری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ان ادویات کی اتنی مانگ ہی موجود نہیں تھی، جس کے باعث کروڑوں روپے کی ادویات گوداموں میں پڑے پڑے زائد المیعاد (Expire) ہو کر ضائع ہونے کے دہانے پر پہنچ گئیں۔
رپورٹ میں سب سے سنگین اعتراض میڈیکل آلات، خصوصاً ڈسپوزیبل سرنجز (Disposable Syringes) کی خریداری پر اٹھایا گیا ہے۔ سپلائرز کو بھاری مالی فائدہ پہنچانے کے لیے مارکیٹ کے مسابقتی نرخوں اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) کے طے شدہ ضابطوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ مارکیٹ ریٹ سے انتہائی بلند، نامناسب اور فلک شگاف نرخوں پر سرنجز اور دیگر طبی سامان خریدا گیا جس نے میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔
قواعد کے مطابق کروڑوں روپے کی خریداری کے لیے اوپن ٹینڈرنگ اور شفافیت لازمی ہے، تاہم سابق وفاقی وزیر کے مبینہ اثر و رسوخ کے باعث پیپرا (PPRA) کے شفاف ٹینڈرنگ کے عمل کو یکسر بائی پاس کیا گیا۔ تمام تر خریداری لوکل پرچیز (LP) یعنی مقامی سطح پر کی گئی براہِ راست خریداری کے ذریعے دکھائی گئی، تاکہ اوپن مارکیٹ کا مقابلہ نہ ہو سکے اور من پسند افراد کی جیبیں بھری جا سکیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر کی ناک کے نیچے ہونے والی اس اندھیر نگری پر وزارتِ مواصلات کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کو سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ کمیٹی نے حکم دیا ہے کہ پیپرا رولز کو ہوا میں اڑا کر قومی خزانے کو کروڑوں کا چونا لگانے والے تمام ذمہ داران، بشمول اس وقت کی وزارت کے اہم فیصلے سازوں کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت ترین قانونی و تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
Qaisar Mirza
editor

Related Articles