وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت منظور ہونے والی فنانسنگ میں جون سے اب تک 245 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد قرضوں کی مجموعی منظور شدہ رقم 511 ارب روپے ہوگئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق جون 2026 میں اس پروگرام کے تحت 148 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی گئی تھی، جو 23 اکتوبر 2026 تک بڑھ کر 511 ارب روپے ہوگئی۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ قرضوں کی تقسیم کی رفتار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جون میں 21 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے تھے، جبکہ اکتوبر تک یہ رقم بڑھ کر 91 ارب روپے ہوگئی، جو 333 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
مشیر خزانہ کی جانب سے شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک بینکوں کو اس اسکیم کے تحت 2 لاکھ 17 ہزار ایک درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔
ان میں سے 86 ہزار 896 درخواستیں منظور کی جاچکی ہیں، جبکہ 15 ہزار 584 افراد کو ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق قرضوں کی منظوری کی شرح جون میں 28 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 40 فیصد ہوگئی ہے۔ اس طرح منظوری کی شرح میں 12 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ زیادہ فنانسنگ کا مطلب ہے کہ مزید خاندان اپنے گھر کے حصول کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
منظور شدہ قرضوں اور جاری رقم میں بڑا فرق
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں بھی ہاؤسنگ فنانس پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں قرضوں کی فراہمی کا عمل تیز کرنے اور گھروں کی دستیابی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں تعمیراتی شعبے اور زیر تعمیر رہائشی منصوبوں کے لیے فنانسنگ کے امکانات بھی زیر غور آئے۔
تاہم اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 511 ارب روپے کی منظور شدہ فنانسنگ میں سے اب تک صرف 91 ارب روپے قرض لینے والوں کو جاری کیے گئے ہیں، یعنی منظور شدہ رقم کا تقریباً 18 فیصد ہی مستحق افراد تک پہنچ سکا ہے۔ حکومت نے جون 2027 تک اس پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔