ٹرمپ کسی طویل جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ، جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق واضح پالیسی بتادی

ٹرمپ کسی طویل جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ، جے ڈی وینس  نے ایران سے متعلق واضح پالیسی بتادی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا  ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ایک طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر ہونے والی تنقید کے باوجود ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ کی فوجی مہم کا دفاع کیا ہے۔

ٹرمپ طویل جنگ کے حامی نہیں، امریکی نائب صدر

جے ڈی وینس نے ان خیالات کا اظہار امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں فاکس نیوز کے زیر اہتمام ایک ٹاؤن ہال پروگرام کے دوران کیا ،  وہ ریپبلکن پارٹی کے ایک ووٹر کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جس نے دریافت کیا تھا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ نے مہنگی بیرونِ ملک جنگیں ختم کرنے سے متعلق اپنا وعدہ پورا کیا ہے؟

 یہ بھی پڑھیں :ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ کا پھر دوٹوک اعلان

اس موقع پر وینس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت کے حوالے سے عوامی بے چینی کو تسلیم کرتے ہوئے  کہا کہ وہ خود بھی عراق میں فوجی خدمات انجام دے چکے ہیں، اس لیے خطے میں طویل فوجی مہمات کے مسائل اور ان کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کو 47 سال 

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا گزشتہ سات ماہ سے کسی نہ کسی صورت میں ایران کے معاملے میں ملوث ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو 47 سال گزر چکے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنازع کو ایسی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے جس کا کوئی اختتام نہ ہو،  ان کے مطابق موجودہ انتظامیہ کا مقصد طویل فوجی مداخلتوں میں الجھنے کے بجائے اپنے طے شدہ اہداف کا حصول ہے۔

فوجی طاقت کا استعمال مکمل طور پر مسترد نہیں، جے ڈی وینس

جے ڈی وینس نے وضاحت کی کہ طویل فوجی مداخلتوں کی مخالفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فوجی طاقت کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے ، ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکا کے طے شدہ مقاصد حاصل کرنے کے بعد اپنی حکومت کی دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کریں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ میں امریکہ کے کتنے طیارے تباہ ہوئے ؟ کانگریس رپورٹ میں بڑا انکشاف

امریکی فوجی مہم پر اندرونِ ملک بھی سوالات

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کردار پر امریکا کے اندر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،  ایک جانب امریکی انتظامیہ اپنی فوجی پالیسی کا دفاع کر رہی ہے تو دوسری جانب بیرونِ ملک طویل جنگوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے عوامی خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

editor

Related Articles