دنیا میں بعض ایسے درخت بھی پائے جاتے ہیں جو دیکھنے میں انتہائی خوبصورت ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندر چھپا زہر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسا ہی ایک درخت سربرا اوڈولم ہے، جسے عام طور پر ’خودکش درخت‘ یا ’سوسائیڈ ٹری‘ کہا جاتا ہے۔
یہ درخت بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے ساحلی اور دلدلی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے سفید پھول بظاہر دلکش دکھائی دیتے ہیں، تاہم اس کے پھل کے اندر موجود بیجوں میں ایک انتہائی زہریلا مادہ پایا جاتا ہے، جسےسربیرن کہا جاتا ہے۔
دل کے نظام کو متاثر کرنے والا زہریلا مادہ
سائنسی تحقیقات کے مطابق سربیرن دل کے معمول کے برقی نظام کو متاثر کرسکتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب اور خطرناک حد تک سست ہوسکتی ہے۔ شدید زہر خورانی کی صورت میں دل کی کارکردگی متاثر ہونے سے جان بھی جا سکتی ہے۔؎
اس درخت کے زہر کو ماضی میں فرانزک تحقیقات کے حوالے سے بھی اہمیت حاصل رہی ہے۔ بعض واقعات میں زہر خورانی کی شناخت عام طبی معائنے سے آسان نہیں ہوتی، جس کے لیے مخصوص لیبارٹری ٹیسٹ اور کیمیائی تجزیے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
کیرالہ میں خودکش درخت کے نام سے مشہور
بھارت کی ریاست کیرالہ میں اس درخت کا نام زہر خورانی اور مشتبہ اموات کے متعدد واقعات کے حوالے سے سامنے آتا رہا ہے۔ اسی خطرناک شہرت کے باعث اسے ’سوسائیڈ ٹری‘کا نام دیا گیا۔
یہ درخت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرت کی خوبصورتی کے پیچھے بعض اوقات ایسے خطرات بھی چھپے ہوتے ہیں جنہیں صرف ظاہری شکل دیکھ کر پہچاننا ممکن نہیں ہوتا۔