پاکستانی پاسپورٹ میں بڑی تبدیلی، جدید چِپ اور بائیومیٹرک سیکیورٹی متعارف

پاکستانی پاسپورٹ میں بڑی تبدیلی، جدید چِپ اور بائیومیٹرک سیکیورٹی متعارف

پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیا ای پاسپورٹ متعارف کرا دیا ہے، جس میں الیکٹرانک چِپ، بائیومیٹرک سیکیورٹی اور تیز رفتار شناخت کی تصدیق جیسی سہولیات شامل کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق نئے ای پاسپورٹ کا اجرا 23 اکتوبر 2026 سے شروع ہوچکا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی سفری دستاویزات کو جدید عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

نئے پاسپورٹ میں کون سی جدید سہولیات شامل ہیں؟

محکمے کے مطابق نئے ای پاسپورٹ میں جدید الیکٹرانک چِپ اور نیئر فیلڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، جس کے ذریعے پاسپورٹ ہولڈر کی ذاتی اور بائیومیٹرک معلومات کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کا اعتراف، اہم اعزاز دوبارہ حاصل

اس کے علاوہ پاسپورٹ میں لیزر اینگریونگ اور نیا ڈیزائن متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد دستاویز کی سیکیورٹی بہتر بنانا اور اس کی جعلی نقل تیار کرنا مشکل بنانا ہے۔

ایئرپورٹس پر امیگریشن کا عمل تیز ہونے کی امید

نئے ای پاسپورٹ کی الیکٹرانک خصوصیات خودکار تصدیقی نظام یعنی ای گیٹس کے استعمال میں مدد فراہم کریں گی۔ اس سے اہل مسافروں کو امیگریشن کے مراحل تیزی سے مکمل کرنے اور روایتی قطاروں میں انتظار کا وقت کم کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔

شناختی فراڈ کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی

ڈائریکٹوریٹ کے مطابق نئے پاسپورٹ میں ذاتی اور بائیومیٹرک معلومات کی تصدیق کے لیے جدید سیکیورٹی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جس سے شناختی فراڈ کے امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ میں ڈیٹا انکرپشن کے ایسے طریقے استعمال کیے گئے ہیں جو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے مقرر کردہ معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔

نئے ای پاسپورٹ کا مقصد نہ صرف سفری دستاویزات کی حفاظت بہتر بنانا ہے بلکہ بین الاقوامی سفر کے دوران پاکستانی شہریوں کے لیے امیگریشن کے عمل کو بھی زیادہ آسان اور مؤثر بنانا ہے۔

editor

Related Articles