پاکستانی عازمینِ حج کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور حج کوٹوں کی تقسیم میں سنگین مالی بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور اربوں روپے کے مبینہ گھپلے کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں ، اس میں بڑا کردار جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، ان کے قریبی ساتھی مفتی ابرار، سابق ڈی جی حج عبدالوھاب سومرو کے گٹھ جوڑ سے متعلق اہم انکشافات پر جواب طلب سوال تو بنتے ہیں ۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن کے دستِ راست مفتی ابرار، ان کے خاندانی نیٹ ورک اور سابق ڈی جی حج عبدالوھاب سومرو کے مبینہ گٹھ جوڑ نے حج کوٹوں کی تقسیم کے تمام میرٹ اور قوانین کی دھجیاں اڑا دیں ، حج جیسی مقدس عبادت کو ذاتی کاروبار کے لئے استعمال کیا گیا ، پاکستانی عازمینِ حج کی حلال کمائی پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا اور حجاج کو بھی نہیں بخشا گیا۔
حج کمپنیوں کا خاندانی نیٹ ورک
اس مقدس فریضۂ حج کو سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کرنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں ، مفتی ابرار کے قریبی ساتھی اخلاق احمد خان (جو العفو منظم اور سجاد ٹریول کے مالک بتائے جاتے ہیں) سے منسلک 45 چھوٹی حج کمپنیوں کا نیٹ ورک سامنے آیا ہے، ان میں سے 7 کمپنیاں مفتی ابرار کے قریبی خاندان اور دوستوں پر مشتمل ہیں، جنہیں محض سال 2026 کے لیے ہی 1 ارب روپے سے زائد کا غیر معمولی حج کوٹا فراہم کیا گیا، جس نے میرٹ اور شفافیت کی دھجیاں اڑا دیں۔
گزشتہ 20 سال کے بیرونِ ملک دوروں اور باہمی روابط کا ریکارڈ کیا ظاہر کرتا ہے؟ ان تعلقات اور مبینہ مالی مفادات کی تحقیقات کیوں نہیں ہونی چاہئیں؟
مفتی ابرار کے قریبی ساتھی اخلاق احمد خان اور ان کے عزیز و اقارب سے منسلک حج کمپنیوں کی چھان بین کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا ان کمپنیوں کے ذریعے عازمینِ حج سے مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول نہیں کی گئیں؟
سابق ڈی جی حج عبدالوھاب سومرو، مفتی ابرار اور فضل الرحمٰن کے گٹھ جوڑ اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیوں نہیں کی جاتیں؟ متعلقہ ذمہ داران سے جواب طلبی کب ہوگی؟
45 چھوٹی حج کمپنیوں کا معاملہ
اخلاق احمد خان، جو العفو منظم اور سجاد ٹریول کے مالک بتائے جاتے ہیں، ان سے منسلک 45 چھوٹی کمپنیوں کے ذریعے گزشتہ کئی سالوں سے حج کوٹوں کے حصول اور مبینہ بندربانٹ کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟
ایک ارب روپے سے زائد کے حج کوٹے کا سوال
ان 45 کمپنیوں میں سے 7 کمپنیاں مفتی ابرار کے قریبی خاندان اور دوستوں سے منسلک بتائی جاتی ہیں ، دستاویز کے مطابق صرف 2026 میں انہیں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا کوٹا دیا گیا، اس غیر معمولی کوٹے کی منظوری، میرٹ اور تقسیم کا حساب کون دے گا؟
سعودی عرب میں سہولیات کے ٹھیکے
سابق ڈی جی حج عبدالوھاب سومرو کے دور میں حج کمپنیوں کو سعودی عرب میں عمارات، ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کی سہولیات کے ٹھیکے دلوانے میں مبینہ کردار کی تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟
سیاسی اثر و رسوخ اور مالی مفادات
فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھیوں، مفتی ابرار اور مولانا ناصر محمود سمیت دیگر متعلقہ افراد کے مالی معاملات اور حج کوٹوں میں کردار کی شفاف تحقیقات کیوں نہیں کی جاتیں؟
کیا مقدس فریضۂ حج کو بھی سیاسی اثر و رسوخ، اقربا پروری، مخصوص کاروباری گروہوں اور مبینہ مالی مفادات کا ذریعہ بنا دیا گیا؟ پاکستانی حجاج کے پیسے اور حقوق کا حساب آخر کون دے گا؟
عوام اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مقدس فریضے کو سیاسی و مالی مفادات کی بھیٹ چڑھانے والے تمام عناصر، بشمول مفتی ابرار، مولانا ناصر محمود، اخلاق احمد خان اور سابق ڈی جی حج عبدالوھاب سومرو کے خلاف اعلیٰ سطحی آڈٹ اور نیب/ایف آئی اے کے ذریعے باقاعدہ تحقیقات شروع کی جائیں اور حجاج کے لوٹے گئے اربوں روپے کا حساب لیا جائے۔
یہ بات انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ جس ملک کا عام شہری سالہا سال محنت مشقت کر کے حلال روزی سے حج کی سعادت حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہے، وہاں سیاست اور مذہ کی مسند پر براجمان شخصیات اسی مقدس فریضے کو اپنی تجوریاں بھرنے کی اے ٹی ایم مشین بنا لیتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے مفاد پرست ٹولے کی جانب سے حج کوٹوں کی یہ غیر قانونی اور اخلاق سوز بندر بانٹ محض ایک مالی بے ضابطگی نہیں، بلکہ لاکھوں سچے عقیدت مندوں کی حلال کمائی اور جذباتی وابستگی پر ایک گہرا وار ہے، اگر اس قسم کے ہولناک اسکینڈل میں شامل بااثر کرداروں، بشمول مفتی ابرار اور سابق ڈی جی حج، کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا اور ان سے ایک ایک روپے کا حساب نہ لیا گیا، تو نہ صرف نظام سے عوام کا اعتماد یکسر اٹھ جائے گا بلکہ مذہبی طبقے پر بھی ایک مستقل دھبہ باقی رہے گا۔