باغ واقعے کا سنسنی خیز ڈراپ سین سیکیورٹی اداروں پر بم دھماکے کا الزام جھوٹ نکلا، دھماکہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بارود خانے میں ہوا

باغ واقعے کا سنسنی خیز ڈراپ سین  سیکیورٹی اداروں پر بم دھماکے کا الزام جھوٹ نکلا، دھماکہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بارود خانے میں ہوا

 آزاد جموں و کشمیر کے علاقے باغ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے اصل حقائق اور سنسنی خیز تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جس نے شرپسند عناصر کے تمام تر جھوٹے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔

 سیکیورٹی اداروں اور فارنزک انویسٹی گیشن کی تحقیقات کے مطابق باغ واقعے کو سوشل میڈیا پر کمال عیاری کے ساتھ ایک منظم بم دھماکے کے طور پر پیش کر کے ریاستی اداروں پر ملبہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی جبکہ دراصل یہ دھماکہ اس نجی مکان کے اندر سلنڈر پھٹنے سے ہوا جہاں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) نے بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ اور خطرناک گولہ بارود چھپا کر رکھا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی اداروں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی آڑ میں کام کرنے والے شرپسند عناصر نے باغ کے ایک رہائشی علاقے میں واقع گھر کو ایک خفیہ اسلحہ خانے (Ammunition Depot) میں تبدیل کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈی آئی خان سڑکوں کے منصوبے، فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کا اربوں روپے کا ایک اور کرپشن اسکینڈل سامنے آگیا

 اس بارود کے ڈھیر میں اچانک ہونے والا دھماکہ نجی مکان کے اندر موجود سلنڈر پھٹنے سے ہوا جس سے گھر کے اندر موجود مواد اور اسلحہ بارود پھٹ گیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود پانچ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معصوم شہری آج زندہ ہوتے اگر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح کارندوں نے سول آبادی کے درمیان اس خطرناک بارود اور مارٹر گولوں کا ذخیرہ نہ کیا ہوتا۔

اس واقعے کے فوری بعد بھارت سے آپریٹ ہونے والے ڈیجیٹل ڈس انفارمیشن سیلز اور سوشل میڈیا ہینڈلز نے متحرک ہو کر اسے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کیا گیا بم دھماکہ قرار دیا تاکہ عوام میں اشتعال پیدا کیا جا سکے۔ تاہم، موقع سے برآمد ہونے والے خودکار ہتھیاروں کے جلے ہوئے ڈھانچے، بارود کے پاؤڈر کے نمونوں اور مکان کی اندرونی دیواروں کو پہنچنے والے نقصان کے فارنزک جائزے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھماکے کا مرکز (Epicenter) گھر کے اندر کا وہ کمرہ تھا جہاں بارود کا ذخیرہ موجود تھا۔

حکومتِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ عوامی حقوق کا نام لے کر بننے والی یہ کمیٹی دراصل بیرونی پراکسی کے طور پر خطے میں خونریزی چاہتی ہے، اور اب ان تمام نجی گھروں اور ٹھکانوں کو فوری طور پر کلیئر کرنے کے لیے گرینڈ آپریشن کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے جہاں شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر بارود چھپایا گیا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles