خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، غیر قانونی ٹھیکوں اور منصوبوں میں بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور ثابت ہونے والے الزامات پر مشتمل چارج شیٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ بیرسٹر سیف اور خود ان کی جماعت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں نے ہمارے مؤقف کی تائید کی ہے۔
سہیل آفریدی کے خلاف اربوں کی مبینہ کرپشن کی چارج شیٹ
ثمر بلور نے کہا کہ کہ سہیل آفریدی تاحال محفوظ تحویل میں ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ پشاور میں موجود ہیں یا کسی دوسری جگہ پر ہیں ، ان سے متعلق تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا جائے گا، سابق دور حکومت میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن اور سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں ، سہیل آفریدی نے مختلف اضلاع میں غیر قانونی طور پر ٹھیکے دیے، جبکہ ان کے بھائی اور کزن بھی متعدد منصوبوں میں مبینہ کرپشن میں ملوث رہے۔
انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان سمیت دیگر معاملات میں بھی سہیل آفریدی کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے ، کرپشن سے متعلق دستیاب شواہد کو یکجا اور مرتب کرنے کا عمل جاری ہے، جس کے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ تیار کی جائے گی اور عوام کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تلملاہٹ
پریس کانفرنس کے دوران ثمر ہارون بلور نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سیاسی بیانات اور رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان میں پایا جانے والا غصہ اور جھنجلاہٹ غیر معمولی ہے، مولانا کی ناراضی کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہیں اب ملاقاتوں اور مشاورت میں وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو ماضی میں حاصل تھی۔
ثمر بلور کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کی جانب سے عجیب و غریب باتیں کی جا رہی ہیں ،انہیں چاہیے کہ صوبے کی ترقی کیلئے آگے آئیں ۔
پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، سفارش نہیں چلے گی
مشیر اطلاعات نے پشاور میں جاری تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے کہا کہ شہر بھر میں بلاامتیاز آپریشن جاری ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی سفارش یا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری نالوں اور گرین بیلٹس پر قائم تجاوزات ختم کرائی جا رہی ہیں، ان کارروائیوں کا مقصد صرف غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ نہیں بلکہ شہری علاقوں کو بہتر، صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد متاثرہ مقامات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خوبصورت انداز میں بحال کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولیات میسر آ سکیں ۔
پشاور کو خوبصورت شہر بنانے کا منصوبہ
ثمر ہارون بلور نے شہر میں صفائی کے انتظامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اربن سینی ٹیشن اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کا عملہ رات گئے تک صفائی کے کاموں میں مصروف ہے ، پشاور میں صفائی اور کچرا اٹھانے کا مؤثر نظام قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔
نوجوانوں کے لیے خیبر ٹی وی کے تعاون سے نیا منصوبہ
مشیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا کی نوجوان نسل کے لیے خیبر ٹی وی کے تعاون سے ایک نیا منصوبہ جلد متعارف کرایا جائے گا ، انہوں نے منصوبے کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
سرکاری خدمات ایک ہی ڈیجیٹل پورٹل پر دستیاب
ثمر ہارون بلور نے سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی سے متعلق بتایا کہ مختلف سرکاری محکموں کی خدمات ایک مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل پر دستیاب کر دی گئی ہیں ، اس نظام کے ذریعے شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہوگی اور انہیں معمول کے سرکاری امور کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت کم پڑے گی۔
سانحہ دیر کالونی کی انکوائری رپورٹ جلد منظر عام پر لانے کا اعلان
پریس کانفرنس میں سانحہ دیر کالونی سے متعلق گفتگو میں ثمر بلور نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور انکوائری رپورٹ جلد منظر عام پر لائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سکولوں اور مدارس کی عمارتوں کی مرمت کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں، بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں خلل سے بچنے کے لیے مرمتی کام تدریسی اوقات کے بجائے فری پیریڈز میں کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
صحت کارڈ بند کرنے کی افواہیں مسترد
صحت کے شعبے سے متعلق سوالات کے جواب میں مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ صحت کارڈ کو بند یا منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور اس منصوبے کا جائزہ لینے کا عمل شروع کیا گیا ہے، صحت کارڈ کے انتظامی اور عملی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس کی کارکردگی اور افادیت بہتر بنائی جا سکے۔
ثمر بلور کے مطابق میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کی انتظامیہ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان اداروں کے بورڈز میں موجود افراد کی کارکردگی اور معاملات کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے اور اداروں میں جواب دہی کا نظام مؤثر ہو۔