اے پاکستانی فوج اور عوام، اپنے وطن کا دفاع کرو ! شامی عالم دین ڈاکٹر سید عبدالعزیز الخطیب الحسنی جیلانی کا پرجوش پیغام

اے پاکستانی فوج اور عوام، اپنے وطن کا دفاع کرو ! شامی عالم دین ڈاکٹر سید عبدالعزیز الخطیب الحسنی جیلانی کا پرجوش پیغام

شام کے معروف عالمِ دین ڈاکٹر سید عبدالعزیز الخطیب الحسنی جیلانی نے پاکستانی غیور عوام اور افواجِ پاکستان کے نام ایک اہم اور جذباتی ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں وطنِ عزیز کے دفاع کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔

خطے کی موجودہ صورتحال اور دفاعی چیلنجز کے پس منظر میں عالمِ اسلام کی مقتدی شخصیات کی جانب سے پاکستان کے حق میں غیر متزلزل حمایت کا سلسلہ جاری ہے ،  اس سلسلے میں شام کے معروف عالمِ دین ڈاکٹر سید عبدالعزیز الخطیب الحسنی جیلانی کا ایک اہم  ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستانی غیور عوام اور افواجِ پاکستان کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے دفاع کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا ہے

شامی عالمِ دین نے اپنے پیغام میں میں کہا کہ اے پاکستان کی فوج اور عوام ! تم سب پر اپنے وطن کا دفاع کرنا لازم ہے،  انہوں نے زور دیا کہ اپنی سرزمین، اپنے وطن، اپنی مساجد اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے  تنہا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اہلِ شام اور مخلصین ہر قدم پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں.

 انہوں نے کہا  کہ دشمن چاہے مادی یا عسکری اعتبار سے جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، انجام کار رسوائی اور ذلت ہی اس کا مقدر بنے گی۔

 ڈاکٹر سید عبدالعزیز الخطیب الحسنی جیلانی نے پاکستانی قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کے غیور عوام کو قوت بخشی ہے، اور جس کی پشت پر ربِ کریم کی مدد، تائید اور غیبی  (فرشتوں) کی نصرت ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی.

عالمی اور علاقائی سطح پر پیش آنے والے جیو پولیٹیکل واقعات اور چیلنجز کے درمیان اس قسم کے پیغامات اس بات کے غماز ہیں کہ پاکستان کا دفاعی کردار اور نظریۂ پاکستان عالمِ اسلام میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مسلم دنیا کے ممتاز علمائے کرام کی طرف سے اظہارِ یکجہتی اس عزم کو مزید پختہ کرتا ہے کہ پاکستانی قوم اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے دفاع سے غافل نہیں ہو سکتی۔

ڈاکٹر سید عبدالعزیز الخطیب الحسنی جیلانی کا یہ  بیان اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان کا دفاع محض چند جغرافیایی سرحدوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے وقار اور دینی اقدار کے تحفظ کی علامت بھی ہے ،  بیرونی دنیا سے آنے والے یہ کلمات نہ صرف مایوسی پھیلانے والے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب ہیں بلکہ یہ پاکستانی قوم کے عزمِ صمیم، جذبۂ ایمانی اور عسکری قوت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

جب کسی قوم کو اندرونِ ملک سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے فکری اور اخلاقی تائید حاصل ہو، تو اس کے ارادوں کو کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی ،  وقت کا تقاضا ہے کہ اس قومی اور ملی یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے ملکی ترقی اور سلامتی کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے۔

editor

Related Articles