فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قیمتوں میں 2 سے 3 گنا اضافے کے باعث دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے بجلی صارفین کے لیے مشکل ترین ہونے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے سردیوں کے تین ماہ (دسمبر، جنوری اور فروری) مالی اور سپلائی کے حوالے سے انتہائی مشکل ترین ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔
پاور ڈویژن کے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ تین مہینوں کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں 2 سے 3 گنا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ (لوڈ شیڈنگ) کا دورانیہ بھی بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
سردیوں کے موسم میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں شدید کمی کے باعث سستی پن بجلی کی پیداوار انتہائی کم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں مہنگے ایندھن پر چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار بڑھ جائے گا۔
ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں در آمدی ایل این جی اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت کے تخمینے انتہائی بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ونٹر سیزن کے دوران بجلی کے کارخانوں کو مقامی گیس کی فراہمی برقرار رکھنا ایک اور بڑا چیلنج ہوگا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران لوڈ مینجمنٹ کو کنٹرول میں رکھنے اور فیول پرائس کا بوجھ صارفین پر کم سے کم منتقل کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں،تاہم آئندہ تین ماہ بجلی صارفین کے لیے مہنگائی اور لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے مشکل ہوسکتے ہیں۔