وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشتگردوں کو واپس لاکر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جبکہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ نہ کیا جاتا تو حالات مزید خراب ہوسکتے تھے۔
وزیراعظم نے کہا ’صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 800 ارب روپے ملنے کے باوجود پولیس کی 5 ہزار آسامیاں خالی ہیں اور انسداد دہشتگردی کے نظام کو مطلوبہ حد تک مضبوط نہیں بنایا گیا‘۔
مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہش گردی کے خلاف ماضی کی طرح قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائی کرنے کی دعوت دی گئی، تاہم ان کی بات نہیں سنی گئی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2019 اور 2020 کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لاکر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان پہلے ہی بہت بڑی جانی اور معاشی قیمت ادا کرچکا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، فوج اور سیاسی قیادت نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
13 سالہ صوبائی حکمرانی اور ترقیاتی کارکردگی پر سوالات
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے برسراقتدار سیاسی جماعت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود بلند و بانگ دعووں کے سوا عوام کو کیا دیا گیا؟ گزشتہ 13 برس کے دوران کتنی نئی یونیورسٹیاں اور اسپتال قائم کیے گئے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
وزیراعظم کے مطابق عوامی خدمت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم کی سیاست کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ ڈویژن اور جنوبی اضلاع تک عوام کے مسائل عدم توجہی کا شکار رہے، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی بہتری کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت تھی۔
نواز شریف نے 2013 میں جمہوری روایت قائم کی
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے خیبرپختونخوا میں سیاسی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور وزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے پارٹی رہنماؤں اور عہدیداروں سے مخاطب ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا خوبصورت صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد محمد نواز شریف نے صوبے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔
ان کے مطابق نواز شریف کی جمہوری سوچ اور سیاسی فراخ دلی نے خیبرپختونخوا میں جمہوری عمل کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سانحہ اے پی ایس کی قربانیاں
وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں عام شہریوں، پولیس اہلکاروں، مسلح افواج اور سیاسی رہنماؤں نے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور ریاستی اداروں نے متحد ہوکر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی۔
شہباز شریف نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا دردناک واقعہ آج بھی قوم کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
ننھے بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے کا یہ سانحہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ ایک المناک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اس خطرے کا مقابلہ قومی اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دھرنوں کی سیاست سے قومی ترقی متاثر ہوئی، چینی صدر کا دورہ بھی مؤخر ہوا
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں گزشتہ برسوں کے سیاسی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کو فروغ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2014 کے دھرنے کے باعث چین کے صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم کے مطابق نواز شریف کی حکومت نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے شبانہ روز محنت کی اور 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اسی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی، توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سیاسی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے مالی وسائل اور امن و امان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے لیے اضافی 1 فیصد وسائل مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاکہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی مالی ضروریات پوری کرنے اور سکیورٹی کے معاملات بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
شہباز شریف کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے موصول ہوچکے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی رقم ملنے کے باوجود صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید خطوط پر استعداد بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
وزیراعظم نے محکمہ انسداد دہشتگردی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کو کس حد تک مضبوط بنایا گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی 5 ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں اور ان پر بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ دستیاب مالی وسائل پولیس کی افرادی قوت بڑھانے، جدید اسلحہ فراہم کرنے اور اہلکاروں کو پیشہ ورانہ تربیت دینے پر خرچ ہونے چاہییں تھے۔
گورنر راج سے پہلے 48 گھنٹے مذاکرات، مسودے کی منظوری نہ ہوسکی
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ ناگزیر حالات میں کیا۔
ان کے مطابق معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ کمیٹی نے مسلسل 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران معاملات طے کرنے کے لیے ایک مسودہ بھی تیار کیا گیا، تاہم اس پر اتفاق کے بعد منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا اور بالآخر مطلوبہ منظوری حاصل نہ ہوسکی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے سامنے عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو مزید نقصان سے بچانے کا سوال تھا، اس لیے بروقت فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا تھا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کی جاتی تو صوبے کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
معیشت کے استحکام کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کوششیں
شہباز شریف نے ملکی معیشت کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر مسلسل محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات اور خلیج میں جنگی صورت حال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان سمیت متعدد ممالک کی معیشتوں پر مرتب ہوئے۔
ان حالات کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔
وزیراعظم کے مطابق اس اسکیم سے اب تک 1 کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ عوام کو مالی سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ (ن) سرگرم رہے گی
وزیراعظم نے خطاب کے اختتام پر کہا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلم لیگ (ن) اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
ان کے مطابق صوبے کو درپیش دہشتگردی، انتظامی مسائل، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک جماعت یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کو مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو امن، ترقی اور معاشی استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کو ترجیح دینا ہوگی۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان اور حکمرانی کا بڑا سوال
وزیراعظم کے خطاب میں تین بنیادی معاملات نمایاں رہے: دہشت گردی کی واپسی، صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی اور گورنر راج کے نفاذ کا جواز۔
این ایف سی کے تحت ملنے والے وسائل، پولیس کی خالی آسامیاں، سی ٹی ڈی کی استعداد اور سیف سٹی منصوبوں سے متعلق سوالات دراصل صوبائی مالی وسائل کے استعمال اور سکیورٹی انتظامات کی مؤثریت سے جڑے ہوئے ہیں۔
اسی طرح گورنر راج کے نفاذ سے متعلق 48 گھنٹے کے مذاکرات اور تیار کردہ مسودے کی منظوری نہ ملنے کا معاملہ بھی سیاسی اور آئینی اعتبار سے اہم ہے۔ اس سلسلے میں مذاکرات میں شریک فریقوں اور صوبائی حکومت کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔