امریکہ میں ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےاخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’، اس کی ہولڈنگ کمپنی ‘نیوز کارپوریشن’، روپرٹ مرڈوک اور اخبار کے صحافیوں کے خلاف دائر کردہ 10 ارب ڈالرز ہرجانے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقدمے کی بنیادی وجہ 2003ء میں جیفری ایپسٹین کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر تیار کی گئی ایک یادگاری کتاب سے متعلق اخبار کی اشاعت تھی ، اس رپورٹ میں مبینہ طور پر ٹرمپ کے نام سے منسوب ایک خط اور ایک خاتون کی تصویر شامل کی گئی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خط کے لکھنے اور اس پر دستخط کرنے کی سختی سے تردید کی تھی، اور رپورٹ کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اخبار پر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے ابتدائی طور پر اس مقدمے میں 20 ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم بعد میں دوبارہ مقدمہ دائر کرنے پر اس ہرجانے کی رقم کو کم کر کے 10 ارب ڈالرز کر دیا گیا تھا۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیرن گیلز نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں یہ قرار دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم عدالت میں یہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی کہ اخبار نے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی خبر شائع کی تھی یا پھر سچائی کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے کسی قسم کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تھا۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کسی بھی عوامی شخصیت کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں یہ ثابت کرنا ازبس ضروری ہوتا ہے کہ متعلقہ میڈیا ادارے یا اخبار نے بدنیتی پر مبنی اقدام کیا تھا، جج نے اخبار کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کو نہایت تفصیلی اور محتاط قرار دیتے ہوئے اس قانونی کارروائی کو صرف تحقیق میں خامیاں تلاش کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے اس مقدمے کو مستقل طور پر خارج کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اب اسی نوعیت کے معاملے پر مستقبل میں دوبارہ عدالت سے رجوع یا مقدمہ دائر نہیں کر سکیں گے، اپنے فیصلے میں جج نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کا خصوصی طور پر حوالہ دیا جو کہ ملک میں آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کا تحفظ کرتی ہے۔
جج نے موقف اپنایا کہ اگر محض کسی عوامی شخصیت کی جانب سے تردید جاری کر دینے پر صحافیوں کو کسی بھی منفی نوعیت کی خبر شائع کرنے سے روک دیا جائے تو یہ عمل آزادیٔ صحافت کے تمام بنیادی اصولوں کی نفی اور ان کے خلاف ہوگا۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکی جریدے کی اس رپورٹ کی اشاعت کے وقت ٹرمپ انتظامیہ کو جیفری ایپسٹین سے متعلقہ حساس دستاویزات کے معاملے پر شدید سیاسی دباؤ کا سامنا تھا، اور ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس پر کڑی تنقید کر رہی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قانونی ٹیم اب اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔