کیا اس وسیع کائنات میں انسانوں کے علاوہ بھی ذہین مخلوق موجود ہے؟ ناسا کے سابق امریکی خلانورد ونسٹن اسکاٹ نے اس امکان پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کائنات میں کہیں نہ کہیں زندگی ضرور موجود ہے، تاہم انہوں نے زمین پر خلائی مخلوق کی آمد سے متعلق کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1990 کی دہائی میں ناسا کے دو خلائی مشنز کا حصہ رہنے والے ونسٹن اسکاٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ کائنات میں اربوں سیارے موجود ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض پر زندگی کے لیے موزوں حالات بھی پائے جاتے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنی وسیع کائنات میں صرف زمین ہی پر ذہین زندگی کی موجودگی کا تصور درست نہیں لگتا۔ ممکن ہے کہ دوسرے سیاروں پر بھی ایسے حالات پیدا ہوئے ہوں جہاں زندگی نے جنم لیا ہو۔
تاہم سابق خلانورد نے واضح کیا کہ کائنات میں زندگی کی موجودگی اور خلائی مخلوق کا زمین پر آنا 2 الگ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق دوسرے سیاروں پر زندگی کا امکان اس بات کا ثبوت نہیں کہ خلائی مخلوق کبھی زمین پر آئی بھی ہے۔
ونسٹن اسکاٹ کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے نامعلوم اڑن اشیا (UFOs) سے متعلق نئی خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان دستاویزات اور رپورٹس میں پراسرار مخلوقات اور امریکا میں ایک نامعلوم فضائی شے کی نگرانی سے متعلق دعوے بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔
واضح رہے کہ اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق یا خلائی مخلوق کی موجودگی کا کوئی مستند سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ سابق خلانورد کا بیان بھی اس حوالے سے ان کے ذاتی نظریے اور سائنسی امکان پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ثابت شدہ حقیقت پر۔