غیر ملکی ملزمان کی ملک بدری کی پالیسی میں اہم تبدیلی، سزا مکمل ہونے کے بعد ہی اپنے ملک بھیجا جائے گا، این سی سی آئی ے کا بڑا فیصلہ
Home - آزاد سیاست - غیر ملکی ملزمان کی ملک بدری کی پالیسی میں اہم تبدیلی، سزا مکمل ہونے کے بعد ہی اپنے ملک بھیجا جائے گا، این سی سی آئی ے کا بڑا فیصلہ
قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں میں گرفتار غیر ملکی شہریوں سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے ان کی فوری ملک بدری روک دی ہے۔
اب گرفتار ملزمان کو پہلے پاکستانی عدالتوں میں پیش کرکے مقدمات چلائے جائیں گے اور سزا مکمل ہونے کے بعد ہی انہیں متعلقہ ممالک واپس بھیجا جائے گا، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے ملازمین کی مستقلی کے معاملے پر انٹرویوز کے نتائج سمیت جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔
غیر ملکی ملزمان کی فوری ملک بدری ختم
قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف چھاپوں کے دوران گرفتار ہونے والے غیر ملکی شہریوں کو اب سابقہ طریقہ کار کے تحت ’ناپسندیدہ افراد‘ قرار دے کر فوری طور پر ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔
این سی سی آئی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا، مقدمات کی سماعت ہوگی اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سزا کی مدت مکمل ہونے کے بعد ہی ان غیر ملکی شہریوں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت گرفتاری، عدالتی کارروائی، قید اور بعد ازاں ملک بدری کے مراحل کو باقاعدہ قانونی طریقہ کار سے منسلک کردیا گیا ہے۔
چینی، انڈونیشیائی اور ویتنامی شہری بھی کارروائیوں کی زد میں
میڈیا رپورٹ کے مطابق ماضی میں غیر قانونی کال سینٹرز سے گرفتار کیے جانے والے غیر ملکی شہریوں کو قانونی کارروائی کے بجائے ’ناپسندیدہ افراد‘ قرار دے کر ملک بدر کردیا جاتا تھا۔
اس دوران سب سے زیادہ تعداد چینی شہریوں کی تھی، جبکہ انڈونیشیا اور ویتنام کے شہری بھی پاکستان میں غیر قانونی کال سینٹرز چلانے کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
این سی سی آئی اے کی کارروائیوں میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ نئے فیصلے کے تحت اب غیر ملکی شہریت کسی ملزم کو پاکستانی قوانین کے تحت عدالتی کارروائی سے استثنیٰ نہیں دے گی۔
7 غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے، 600 سے زیادہ افراد گرفتار
میڈیا رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے گزشتہ ماہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 7 کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں کیں، جن کے دوران 600 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
کارروائیوں میں گرفتار تمام افراد کے خلاف چالان مرتب کرکے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ گرفتار غیر ملکی شہریوں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کے بجائے قانونی کارروائی کے لیے پاکستانی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس اعتبار سے اہم ہے کہ ماضی میں ایسے واقعات میں غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری کو ترجیح دی جاتی تھی، تاہم اب متعلقہ ادارے انہیں پاکستانی قانونی نظام کے سامنے جواب دہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے ملازمین کی مستقلی، ہائیکورٹ کا جامع رپورٹ کا حکم
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ملازمین کی ملازمتیں مستقل کرنے سے متعلق درخواست پر متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے پیر کے روز توقیر جدون کی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے شروع کیا گیا عمل مکمل کیا جائے، متعلقہ امیدواروں کے انٹرویوز منعقد کیے جائیں اور ان کے نتائج عدالت میں پیش کیے جائیں۔
سماعت کے دوران وفاقی پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی جانب سے درخواست پر شق وار جواب اور رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی۔
ایف پی ایس سی کی منظوری لازمی، انٹرویوز کا عمل جاری
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملازمین کی مستقلی کے معاملے میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کی منظوری قانونی طور پر لازمی تقاضا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال اور انٹرویوز کا عمل جاری ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل مشترکہ طور پر امیدواروں کے انٹرویوز کر رہے ہیں۔
عدالت نے متعلقہ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ انٹرویوز اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرکے اس کے نتائج پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، تاکہ ملازمین کی مستقلی سے متعلق معاملے کو آگے بڑھایا جاسکے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ انٹرویوز کے نتائج اور پیش رفت کی جامع تفصیلات طلب کرلی ہیں۔