بھارت پابندیاں اٹھائے تو روزانہ 5,000 سکھ زائرین کے استقبال کے لیے تیار ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کا بڑا اعلان

بھارت پابندیاں اٹھائے تو روزانہ 5,000 سکھ زائرین کے استقبال کے لیے تیار ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کا بڑا اعلان

پاکستان نے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں روزانہ 5,000 سکھ زائرین کی میزبانی اور سہولت کاری کی مکمل آمادگی ظاہر کرتے ہوئے بھارت سے تاریخی راہداری پر قائم تمام پابندیاں فوری اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ’مقامی اخبار‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد نے سکھ زائرین کو ان کے مقدس مقامات، بالخصوص گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کے لیے مزید اضافی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے ثمرات آنے لگے، کرک میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن، سڑکیں کھل گئیں، شہریوں نے سکھ کا سانس لیا،تاجر تنظمیں بھی خوش

انہوں نے کہا کہ اگر نئی دہلی انتظامیہ کرتارپور راہداری سے زائرین کی آمد و رفت پر عائد بیجا پابندیاں ختم کرے تو پاکستان فوری طور پر یومیہ 5,000 زائرین کی آمد کو آسان بنانے اور تمام انتظامی ترجیحات مکمل کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

پاکستان نئی دہلی میں واقع اپنے ہائی کمیشن کے ذریعے سکھ زائرین کو ویزوں کا اجرا اور تمام سفری ترجیحات مسلسل فراہم کر رہا ہے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کا فروغ یقینی بنایا جا سکے۔

بھارتی پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد اور عوامی مطالبات

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کی اس متفقہ قرارداد کی مکمل حمایت اور احترام کرتا ہے جس میں مرکزی بھارتی حکومت سے کرتارپور راہداری فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد صوبائی وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے پیش کی تھی جس کی وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے بھی پرزور تائید کی۔

قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ راہداری دونوں ممالک کے درمیان مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی روابط اور مشترکہ ورثے کی علامت ہے، لہٰذا زائرین کے لیے ویزا اور سفری طریقہ کار کو مزید آسان اور لچکدار بنایا جائے۔

پہلگام واقعہ اور تاریخی راہداری کی بندش

موجودہ سیکیورٹی اور سفارتی تعطل کا پس منظر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میں 7 مئی 2025 کو ہونے والے حملے اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی شدید عسکری کشیدگی سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت نے اس واقعے کا جواز بنا کر کرتارپور راہداری کے آپریشنز یکطرفہ طور پر معطل کر دیے تھے۔

پاکستان نے اس بندش کو بلاجواز قرار دیا تھا، کیونکہ اس اقدام سے دنیا بھر اور بالخصوص بھارت کے سکھ جذبات شدید مجروح ہوئے اور وہ اپنے سب سے مقدس مقام کے دیدار سے محروم ہو گئے۔

مزید پڑھیں:بھارت کا سفاکانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب، ایڈمنٹن میں سکھ برادری کا بھارتی پنجاب کو مودی کے جابرانہ تسلط سے آزاد کرانے کیلئے تاریخی فیصلہ

بین الاقوامی دباؤ اور سکھ برادری کے مسلسل مطالبات کے بعد نئی دہلی نے اپنے شہریوں کی آمد و رفت پر عائد بعض سختیاں وقتی طور پر کم کیں، جبکہ زائرین کے پاس تمام ضروری اور قانونی سفری دستاویزات موجود تھیں۔

پاکستانی کی میزبانی اور عالمی سکھ برادری سے روابط

سجاد حیدر خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف بھارت اپنے سکھ شہریوں کو پاکستان کے مذہبی سفر سے روکنے اور حوصلہ شکنی کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، تو دوسری طرف پاکستان سال میں 5 بار سکھ زائرین کو مذہبی مناسک کی ادائیگی کے لیے فراخدلی سے ویزے اور دیگر میزبانی کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

دنیا بھر سے سکھ یاتری بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان آتے ہیں جہاں ان کے مقدسات کی حفاظت اور تزئین و آرائش کو ریاستی ترجیح حاصل ہے۔

خطے کا سیاسی و سفارتی تناظر اور مستقبل کا روڈ میپ

اگر اس تمام تر صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو کرتارپور راہداری محض ایک مذہبی راستہ نہیں بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان عوامی رابطے اور تناؤ کو کم کرنے کا ایک نایاب سفارتی پل ہے۔

بھارت کی جانب سے سکھ زائرین پر عائد کی جانے والی پابندیاں ان کی اندرونی سیاست اور سیکیورٹی بیانیے کا حصہ تو ہو سکتی ہیں، مگر اس کے نتیجے میں نئی دہلی کو عالمی سطح پر مذہبی آزادیوں پر پابندی کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تحریک انتشار نے احتجاج آگے بڑھایا تو اسے ہمیشہ کے لیے سبق سکھانے کی تیاریاں مکمل ہیں،منصورعلی خان

پاکستانی حکومت کی جانب سے یومیہ 5,000 زائرین کو فوراً خوش آمدید کہنے کا عزم اور بھارتی پنجاب اسمبلی کی حمایت نہ صرف پاکستان کے نرم اور پرامن تشخص کو اجاگر کرتی ہے بلکہ نئی دہلی کی مرکزی حکومت پر اپنے ہی شہریوں اور سکھ برادری کے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے شدید سفارتی و سیاسی دباؤ بھی بڑھاتی ہے۔

Related Articles