پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر حمزہ نذر کو دو سالہ پابندی کے معاملے میں ریلیف مل گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کرکٹر کی جانب سے اپنی غلطی تسلیم کرنے اور معافی کی درخواست پر پابندی ختم کر دی ہے، جبکہ انہیں قائداعظم ٹرافی کے لیے سیالکوٹ کی ٹیم میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پی سی بی نے 6 اگست کو حمزہ نذر پر دو سال کے لیے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے تمام فارمیٹس میں کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔
بورڈ کے مطابق یہ کارروائی ویزا درخواست کے دوران فراہم کی گئی معلومات کی تحقیقات کے بعد کی گئی تھی۔ پی سی بی کا کہنا تھا کہ حمزہ نذر نے مکمل اور درست معلومات فراہم نہیں کیں، گمراہ کن تفصیلات جمع کروائیں اور درخواست کے عمل میں اہم حقائق چھپائے۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے پی سی بی نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے ساتھ کرکٹر کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا۔ کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں بورڈ نے پابندی اور جرمانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق حمزہ نذر نے بعد ازاں اپنی غلطی پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے پی سی بی سے معافی کی درخواست کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کرکٹ ہی ان کا ذریعہ معاش ہے اور ان سے کھیلنے کا موقع نہ چھینا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے پابندی فوری طور پر ختم کر دی، تاہم انہیں مستقبل میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حمزہ نذر اس سے قبل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے قومی ٹیم میں شمولیت کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے، لیکن ویزا تنازع کے باعث وہ سلیکشن کی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے۔
اب انہیں قائداعظم ٹرافی کے لیے سیالکوٹ کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے اور وہ ان دنوں لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس کر رہے ہیں۔27 سالہ حمزہ نذر اب تک 16 فرسٹ کلاس میچز میں 748 رنز بنانے کے ساتھ 26 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔