’بہت ہو گیا، اب بلیک میلنگ نہیں چلے گی‘، اسٹیبلشمنٹ نے فضل الرحمان کو ’لال بتی‘ دکھا دی، سینیئر صحافی ارشد ملک عزیز کے اہم انکشافات

’بہت ہو گیا، اب بلیک میلنگ نہیں چلے گی‘، اسٹیبلشمنٹ نے فضل الرحمان کو ’لال بتی‘ دکھا دی، سینیئر صحافی ارشد ملک عزیز کے اہم انکشافات

سینیئر صحافی ارشد عزیز ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ فضل الرحمان فضل الرحمان گورنر راج اور خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں انتظامی فیصلوں کے دوران مشاورت نہ کیے جانے پر اسٹیبلشمنٹ سے ناراض ہیں، جبکہ ان کے سخت بیانات کا مقصد مقتدر حلقوں کو دوبارہ رابطے پر آمادہ کرنا ہے۔

ان کے بقول اسٹیبلشمنٹ نے بھی واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب کسی قسم کی بلیک میلنگ قبول نہیں کی جائے گی۔

فضل الرحمان فضل الرحمان کی ناراضی کی اصل وجہ کیا ہے؟

سینیئر صحافی ارشد عزیز ملک نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضل الرحمان کا بنیادی شکوہ یہ ہے کہ گورنر راج کے نفاذ اور خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی سے متعلق فیصلوں کے دوران انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت سمجھتی ہے کہ صوبے میں سیاسی اثرورسوخ، انتخابی حمایت اور پارلیمانی موجودگی کے باوجود اہم فیصلوں میں اس سے کوئی مشاورت نہیں کی جارہی۔

یہ بھی پڑھیں:وزارتِ سیاحت میں اربوں کی بندر بانٹ کا ہولناک ڈراپ سین: کٹھ پتلی وزیر کے پیچھے چھپے ماسٹر مائنڈ مولانا فضل الرحمان کے بھیانک کردار کا سنسنی خیز انکشاف

ارشد عزیز ملک کے مطابق فضل الرحمان اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ گورنر راج کے معاملے میں انہیں اعتماد میں لینے کے بجائے معاملات پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے کردیے گئے، جبکہ 12 اضلاع کے لیے قائم کی گئی کونسل کے معاملے میں بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ فضل الرحمان کے نزدیک ان اضلاع میں جمعیت علمائے اسلام کا مضبوط ووٹ بینک اور نمایاں سیاسی اثرورسوخ موجود ہے۔ اس کے باوجود نئی انتظامی ترتیب میں جماعت کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔

12 اضلاع کی کونسل میں بھی فضل الرحمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا

ارشد عزیز ملک نے گفتگو میں بتایا کہ 12 اضلاع کے لیے قائم کی گئی کونسل کی سربراہی شوکت اللہ کو سونپی گئی، تاہم اس فیصلے سے متعلق بھی فضل الرحمان سے مشاورت نہیں کی گئی۔

ان کے بقول فضل الرحمان کا شکوہ ہے کہ جن علاقوں میں جمعیت علمائے اسلام کے ووٹرز اور منتخب نمائندوں کی موجودگی نمایاں ہے، وہاں انتظامی اور سیاسی نوعیت کے فیصلے کرتے ہوئے جماعت کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔

انہوں نے سابق قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام واحد سیاسی جماعت تھی جو انضمام کی مخالفت کررہی تھی۔

اب فضل الرحمان کو یہ اعتراض ہے کہ پہلے انضمام کے معاملے پر ان کے مؤقف کو اہمیت نہیں دی گئی اور اب 12 اضلاع سے متعلق ایک نیا انتظامی معاملہ کھڑا کردیا گیا ہے، لیکن انہیں اس کی تفصیلات تک سے آگاہ نہیں کیا جارہا۔

فضل الرحمان کا مسلم لیگ (ن) سے نہیں، اسٹیبلشمنٹ سے گلہ ہے

سینیئر صحافی کے مطابق فضل الرحمان کی ناراضی کا اصل مرکز مسلم لیگ(ن) نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔

ارشد عزیز ملک کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے اپنے حالیہ بیانات میں جو سخت لب و لہجہ اختیار کیا، اس کا بنیادی مقصد مقتدر حلقوں کو اپنی ناراضی کا احساس دلانا اور انہیں دوبارہ رابطہ کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔

ان کے مطابق فضل الرحمان کو توقع تھی کہ ان کے سخت بیانات کے بعد ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں ملاقات کے لیے بلایا جائے گا تاکہ وہ اپنے تحفظات براہ راست سامنے رکھ سکیں۔

ارشد عزیز ملک نے کہا کہ فضل الرحمان کی توقع یہ تھی کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے انہیں پیغام دیا جائے گا کہ بیٹھ کر معاملات طے کرتے ہیں اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ وہ کس بات پر ناراض ہیں۔

تاہم اس مرتبہ صورت حال ماضی سے مختلف دکھائی دی اور ان کے سخت بیانات کے جواب میں مقتدر حلقوں کی جانب سے مفاہمت کے بجائے سخت مؤقف سامنے آیا۔

محسن نقوی کا بیان، گورنر شپ مانگنے اور بلیک میلنگ قبول نہ کرنے کا مؤقف

ارشد عزیز ملک نے پوڈ کاسٹ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک آن ریکارڈ بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں ان کے مطابق محسن نقوی نے کہا تھا کہ فضل الرحمان نے گورنر راج کے دوران گورنر شپ مانگی تھی۔

مزید پڑھیں:گورنر راج اور وزارتوں میں حصہ نہ ملا تو تیور بدل گئے، مردان کے شہریوں نے فضل الرحمان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

سینیئر صحافی کے مطابق اس بیان نے فضل الرحمان کے تحفظات اور گورنر راج کے معاملے میں ان کی سیاسی توقعات سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ بلیک میلنگ قبول نہیں کی جائے گی۔

ارشد عزیز ملک کے تجزیے کے مطابق اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مقتدر حلقے فضل الرحمان کے سخت سیاسی رویے کو دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی سمجھ رہے ہیں اور اب ماضی کی طرح ایسے دباؤ کے سامنے آنے کے لیے تیار نہیں۔

ان کے مطابق اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کا رویہ مختلف ہے اور فضل الرحمان کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

فضل الرحمان کی نظریں 2029 کے عام انتخابات پر مرکوز

ارشد عزیز ملک نے فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودہ سرگرمیوں کا تعلق صرف گورنر راج یا 12 اضلاع کے انتظامی معاملات سے نہیں بلکہ وہ مستقبل کے عام انتخابات کو بھی سامنے رکھ کر سیاسی صف بندی کررہے ہیں۔

ان کے مطابق فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں اور انتخابی سرگرمیوں کے لیے تقریباً ایک سال پہلے سے سیاسی رابطے، تنظیم سازی اور انتخابی تیاریوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ 2026 کے اختتام کے بعد 2027 اور 2028 کے دوران سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی حکمت عملی مرتب کریں گی، جبکہ انتخابات قریب آنے پر سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

ارشد عزیز ملک کے مطابق فضل الرحمان کو خدشہ ہے کہ کہیں آئندہ انتخابات میں بھی ان کے ساتھ ماضی جیسا سیاسی رویہ اختیار نہ کیا جائے اور انہیں سیاسی منظرنامے سے باہر رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کو زیادہ اہمیت نہ دے دی جائے۔

ان کے بقول فضل الرحمان کی کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی اپنی سیاسی اہمیت اور انتخابی ضرورت کو منوایا جائے تاکہ مستقبل کی سیاسی صف بندی میں جمعیت علمائے اسلام کو نظر انداز نہ کیا جاسکے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے بعد دیگر جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کا معاملہ

سینیئر صحافی نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجزیے کے مطابق اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی پوزیشن پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کو خدشہ ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں بھی اس کے ساتھ موجودہ جیسا رویہ برقرار رکھا گیا تو جماعت ایک بار پھر سیاسی طور پر پیچھے رہ جائے گی۔

اسی خدشے کے پیش نظر فضل الرحمان بتدریج اپنے سیاسی کارڈز کھیل رہے ہیں اور مختلف معاملات پر سخت مؤقف اختیار کرکے اپنی جماعت کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ارشد عزیز ملک کے مطابق فضل الرحمان چاہتے ہیں کہ انتخابی سیاست کے اگلے مرحلے سے پہلے مقتدر حلقوں کو یہ احساس ہو کہ خیبر پختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام کو نظر انداز کرکے کوئی بھی سیاسی حکمت عملی مکمل نہیں ہوسکتی۔

اسٹیبلشمنٹ کا جواب، پاکستان ‘ہارٹ اسٹیٹ‘ بن چکا ہے

ارشد عزیز ملک نے گفتگو کے دوران بتایا کہ فضل الرحمان کے سخت بیانات کے جواب میں دوسری جانب سے بھی مختلف نوعیت کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

ان کے مطابق فضل الرحمان کی جانب سے تنقید اور ناراضی کے اظہار کے بعد جواب میں یہ کہا گیا کہ پاکستان اب ‘ہارٹ اسٹیٹ‘ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں:17 ویں ترمیم سے 26 ویں ترمیم تک سودے بازی، طالبان سے روابط اور حج پر کمیشن خوری، فضل الرحمان کے 14 کالے کرتوت بے نقاب

یہ بیان اس تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کہ فضل الرحمان ایک طرف اپنے سیاسی تحفظات سامنے لا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مقتدر حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملکی حالات اور سیاسی معاملات میں اب پہلے جیسی گنجائش موجود نہیں۔

گورنر راج، قبائلی اضلاع اور سیاسی نمائندگی کا تنازع

خیبر پختونخوا کے سابق قبائلی اضلاع کا انتظامی مستقبل، صوبے میں سیاسی نمائندگی اور سیکیورٹی سے متعلق فیصلے طویل عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔

سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مخالفت کی تھی۔ جماعت کا مؤقف تھا کہ اس نوعیت کے فیصلے مقامی آبادی اور متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر کیے جانے چاہییں۔

اب 12 اضلاع میں ایمرجنسی، انتظامی کونسل کے قیام اور گورنر راج سے متعلق فیصلوں پر مشاورت کا معاملہ ایک نئے سیاسی تنازع کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے لیے یہ معاملہ محض انتظامی نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق صوبے میں جماعت کے انتخابی اثرورسوخ، سیاسی اہمیت اور مستقبل کے انتخابی امکانات سے بھی ہے۔

Related Articles