ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا اثرعالمی توانائی منڈی پر نظر آنا شروع ہو گیا ہے ، مذاکرات کے تیسرے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایشیائی منڈی میں برینٹ کی قیمت
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر 51 سینٹ کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 111 ڈالر 92 سینٹ فی بیرل پر آ گئی ، یہ کمی فیصد کے اعتبار سے 1.33 فیصد بنتی ہے اگرچہ قیمت میں کمی آئی ہے، تاہم تیل کا نرخ اب بھی غیر معمولی طور پر بلند سطح پر موجود ہے۔
امریکی خام تیل بھی نیچے
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں اس سے بھی زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ، ڈبلیو ٹی آئی ایک ڈالر 78 سینٹ سستا ہو کر 102 ڈالر 34 سینٹ فی بیرل پر آ گیا، جو 1.71 فیصد کی گراوٹ ہے ، دونوں بڑے بینچ مارک میں بیک وقت کمی اس بات کی علامت ہے کہ منڈی میں بے یقینی کچھ کم ہوئی ہے۔
ایرانی اور قطری حکام کے درمیان مذاکرات
اس کمی کے پس منظر میں سفارتی محاذ پر ہونے والی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ، ایرانی اور قطری حکام کے درمیان امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل تیسرے روز مذاکرات جاری رہے، مذاکرات کا تسلسل اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ فریقین بات چیت کے راستے سے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
تیل کی منڈی عموماً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر فوری ردِعمل دیتی ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی توانائی کی ترسیل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ، ایسے میں جنگ کے خاتمے کی ہلکی سی امید بھی قیمتوں کو نیچے لا سکتی ہے، جبکہ مذاکرات میں کسی تعطل کی خبر نرخوں کو دوبارہ اوپر دھکیل سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں قیمتوں کا رخ بڑی حد تک اسی بات پر منحصر ہوگا کہ بات چیت کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچتی ہے یا نہیں۔