حکومت نے ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کے موجودہ ڈھانچے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے تحت، یکم نومبر 2026 سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) مقامی طور پر تیار شدہ اور درآمد شدہ ایل پی جی کی ماہانہ قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گی۔
درآمدی لاگت پر مبنی قیمتوں کا نیا طریقہ کار
نئے متعارف کرائے جانے والے نظام میں ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین مکمل طور پر درآمدی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا، وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے لیے پیش کردہ مجوزہ رہنما اصولوں کے مطابق، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، ایس ایس جی سی ایل پی جی لمیٹڈ، پارکو پرل گیس لمیٹڈ اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ جیسے سرکاری ادارے بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
یہ ادارے ہر ماہ حقیقی درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی قیمت کا اعلان کریں گے ، قیمتوں کے اس نئے طریقہ کار میں سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس، درآمدی پریمیم، مال برداری (فریٹ)، انشورنس، دیگر متعلقہ اخراجات اور درآمدی ٹیکس شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اوگرا قیمتوں کا تعین سعودی آرامکو کی قیمت اور فی میٹرک ٹن 35 ہزار روپے کے مقررہ مارجن کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ قیمتیں طے کر کے کرتا تھا۔
موجودہ فارمولے کی خامیاں اور ڈی ریگولیشن کی وجہ
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق، ایل پی جی کی قیمتوں کے موجودہ فارمولے میں درآمدی ایل پی جی پر آنے والے اضافی اخراجات شامل نہیں ہوتے ، اس خامی کے باعث سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمتوں اور حقیقی درآمدی لاگت کے درمیان ایک نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے جولائی 2026 کے دوران ایل پی جی فلنگ پلانٹس کی اوسط قیمتیں اوگرا کی مقرر کردہ صارف قیمت سے 60 سے 79 روپے فی کلوگرام تک زیادہ رہیں۔ مارچ کے مہینے میں یہ فرق تشویشناک حد تک بڑھ کر 158 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گیا تھا۔
مستحق خاندانوں کے لیے سبسڈی فنڈ
ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے کم آمدنی والے گھرانوں کو بچانے کے لیے حکومت نے ایک خصوصی سبسڈی فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مجوزہ پالیسی کے تحت ایک ‘پروڈیوسر پرائس ڈیفرینشل فنڈ’ بنایا جائے گا، جس میں درآمدی قیمت اور مقامی پیداوار کی قیمت کے درمیان فرق کی رقم جمع کی جائے گی۔
اس فنڈ سے حاصل ہونے والی رقم صرف مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی ، اس سہولت کے لیے صرف وہی خاندان اہل ہوں گے جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مقرر کردہ معیار پر پورا اترتے ہیں ، پیٹرولیم ڈویژن ایک ماہ کے اندر وزارت خزانہ اور بی آئی ایس پی کی مشاورت سے اس فنڈ کے عملی طریقہ کار کو حتمی شکل دے گا۔
مارکیٹ میں مسابقت اور اوگرا کا کردار
مجوزہ نظام کے تحت ایل پی جی درآمد اور مارکیٹنگ کرنے والی نجی کمپنیوں کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنے مارکیٹنگ مارجن اور مال برداری کے اخراجات خود طے کریں تاہم، مسابقتی کمیشن پاکستان اور اوگرا مارکیٹ پر نظر رکھیں گے اور کسی بھی قسم کے گٹھ جوڑ (Cartelization) اور غیر مسابقتی سرگرمیوں کی روک تھام کے ذمہ دار ہوں گے۔
اس کے علاوہ حکومت نے مقامی ایل پی جی پیداوار کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز بھی دی ہے، تاکہ شمالی علاقوں، گلگت بلتستان اور دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے ، باقی 90 فیصد پیداوار اوگرا سے منظور شدہ کمپنیوں کو شفاف ماہانہ نیلامی کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
ایل پی جی مارکیٹ کا حجم اورسرمایہ کاری کے تقاضے
دستاویز کے مطابق پاکستان کی ایل پی جی مارکیٹ کا سالانہ حجم اس وقت 24 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جبکہ گیس کی طلب میں سالانہ 7.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہو رہا ہے چونکہ مقامی پیداوار ملکی طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، اس لیے تقریباً 71 فیصد سپلائی درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
حکومتی تخمینے کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے آئندہ تین سے پانچ برسوں میں ایل پی جی کے شعبے میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی ، اس سرمایہ کاری کی ضرورت نئے ٹرمینلز، ذخیرہ کرنے کی سہولیات، سلنڈرز کی تیاری اور نقل و حمل کے نظام کی بہتری کے لیے ہے۔